ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 309
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام لاہور میں آپ شام کو تھوڑی دیر کے لئے لینڈو میں سیر کو تشریف لے جاتے ایک بار حضرت اماں جان نے کہا لڑکی کو ساتھ لے جاتے ہو وہ دونوں بہوئیں ہیں ان کو کسی دن لے جایا کرو۔آپ نے فرمایا: ”نہیں میرے ساتھ مبار کہ ہی جائے گی وہ الگ جا سکتی ہیں“ ایک دفعہ آپ نے ماہ محرم کے پہلے عشرے میں ہمیں پاس بٹھا کر فرمایا آؤ! آج تم کو محرم کی کہانی سنائیں وہ ہمارے نبی کریم صلی ال نیلم کے نواسے تھے ان کو منافقوں نے ”ظالموں نے بھوکا پیاسا کربلا کے میدان میں شہید کر دیا۔اس دن آسمان سرخ ہو گیا تھا۔چالیس روز کے اندر قاتلوں ظالموں کو خدا تعالیٰ کے غضب نے پکڑ لیا کوئی کوڑھی ہو کر مرا کسی پر کوئی عذاب آیا اور کسی پر کوئی ”یزید کے ذکر پر یزید پلید فرماتے تھے کافی لمبے واقعات آپ نے سنائے حالت یہ تھی کہ آپ پر روت طاری تھی آنسو بہنے لگتے تھے جن کو امنی انگشت شہادت سے پونچھتے جاتے تھے“ وہ کیفیت مجھے ہمیشہ یاد آتی ہے۔مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی صفحہ 16 - 21 تک کا خلاصہ) حضرت اماں جان نے ایک دفعہ فرمایا: تمہارے ابا تمہاری ہر بات مان لیتے اور میرے اعتراض کرنے پر فرمایا کرتے تھی کہ لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہیں یہ کیا یاد کرے گی، یہ جو کہتی ہے وہی کرو مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی صفحہ 47) ایک دفعہ حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے بچپن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی کہ ان کے بھائی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد (مرحوم) ان سے ناراض ہو گئے ہیں اور کسی طرح راضی نہیں ہو رہے۔حضور نے جو اس وقت ایک کتاب تصنیف فرما رہے تھے مندرجہ ذیل اشعار لکھ کر دیئے جو حضرت نواب مہار کہ بیگم نے صاحبزادہ صاحب کے سامنے پڑھ دیئے تو وہ خوش ہو گئے۔روایت حکیم دین محمد رجسٹر روایات جلد 13 صفحہ 62) مبارک کو میں نے ستایا نہیں کبھی میرے دل میں یہ آیا نہیں میں بھائی کو کیونکر ستا سکتی ہوں وہ کیا میری آناں کا جایا نہیں الہی خطا کر دے میری معاف کہ تجھ بن تو ربّ البرایا نہیں! 309 الفضل 7 جولائی 1943ء صفحہ 3)