ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 308
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام صورت کا۔اس میں دیکھو تو عجیب مضحکہ خیز صورت دوسرے کی نظر آتی تھی۔جب یہ کھلونا لاہور سے کسی نے لا کر دیا۔آپ کو یہ چیز میں نے دکھائی۔آپ نے دیکھا اور تبسم فرمایا کہا: ”اب جاؤ دیکھو اور ہنسو کھیلو مگر دیکھو یاد رکھنا میری جانب ہر گز نہ دیکھنا سب والدین بچوں کو تہذیب سکھاتے ہیں مگر یہ ایک خاص بات تھی اللہ تالی کا فرستادہ نبی مؤدب بن کر بھی آتا ہے اور خود اس کو اپنا ادب بھی اپنی ذاتی شخصیت کے لئے نہیں بلکہ اس مقام کی عزت کے لئے جس پر اس کو کھڑا کیا گیا“ اس ذات برتر کے احترام کی وجہ سے جس نے اس کو خاص مقام بخشا جس کی جانب سے وہ بھیجا گیا سکھانا پڑتا ہے۔مجھے اور مبارک احمد کو قینچی سے کھیلتے دیکھ کر تنبیہ فرمائی کیونکی قینچی کی نوک اس وقت میں نے مبارک احمد کی طرف کر رکھی تھی فرمایا: » کبھی کوئی تیز قینچی چھری“ چاقو اس کے تیز رخ سے کسی کی طرف نہ پکڑاؤ اچانک لگ سکتی ہے“ کسی کی آنکھ میں لگ جائے کوئی نقصان پہنچے تو اپنے دل کو بھی ہمیشہ پچھتاوا رہے گا اور دوسرے کو تکلیف یہ عمر بھر کو سبق ملا اور آج تک یاد ہے۔۔۔حضرت اماں جان بہت زیادہ شفقت اور محبت فرماتی تھیں مگر آخر ماں تھیں وہ تربیت اپنا فرض جانتی تھیں کبھی کبھی کہتیں اتنی ناز برداری لڑکیوں کی ٹھیک نہیں ہوتی۔نہ معلوم کسی کی قسمت کیسی ہو؟ آپ فرماتے تم فکر نہ کرو خدا شکر خورے کو شکر دیتا ہے“ آپ فرماتے: ”لڑ کی ہے آخر ہمارے پاس چند دن کی مہمان ہے یہ کیا یاد کرے گی“ میں بچہ تھی بالکل چھوٹی جب بھی آپ نے مجھے کہا اور شاید کئی بار کہ ”جب تم آنکھ کھلے کروٹ لیتی ہو اس وقت ضرور دعا کرلیا کرو“ میں اٹھ نہ سکوں ”بیمار ہوں“ کچھ ہو یہ عادت میری اب تک قائم ہے دعا کرتے کرتے درود پڑھتے نیند آجاتی ہے پھر آنکھ کھلے تو وہی سلسلہ۔یہ سب آپ کے الفاظ کی برکت ہے۔میں چھوٹی تھی تو رات کو اکثر ڈر کر آپ کے بستر میں جا گھستی تھی جب ذرا بڑی ہونے لگی تو آپ نے فرمایا ”جب بچے بڑے ہونے لگتے ہیں اس وقت میری عمر کوئی پانچ سال کی تھی تو پھر بستر میں اس طرح نہیں آ گھسا کرتے۔میں تو اکثر جاگتا رہتا ہوں تم چاہے سو دفعہ مجھے آواز دو میں میں جواب دوں گا پھر تم نہیں ڈرو گی اپنے بستر سے ہی مجھے پکار لیا کرو۔ایک بار میرے چھوٹے بھائی صاحب حضرت شریف احمد نے وہ بھی آخر بچہ ہی تھے اصرار کیا کہ میرا پلنگ بھی ابا کے قریب بچھا دیں، مگر میں نے اپنی جگہ چھوڑنا نہیں مانا حضرت اماں جان نے فرمایا کہ ”یہ ہمیشہ پاس لیٹتی ہے کیا ہو گا اگر شریف کا بھی دل چاہتا ہے ایک دو دن یہ اپنی ضد چھوڑ دے بھائی کو لیٹنے دے تو کیا حرج ہے ہو جائے گا“ مگر حضرت مسیح موعود نے فرمایا ”نہیں یہ لڑکی ہے اس کا دل رکھنا زیادہ ضروری ہے“ 308