ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 262 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 262

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام جس نے اپنے ماں اور باپ دونوں کی اطاعت کرتے ہوئے دن کا آغاز کیا اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اگر ایک کی اطاعت کی ہو تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور جس نے ماں باپ دونوں کی نافرمانی کرتے ہوئے صبح کی اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھل چکے ہوتے ہیں اور اگر ایک کی نافرمانی کی ہو تو ایک دروازہ کھل جاتا ہے۔کسی نے پوچھا اگر ماں باپ ظالم ہوں تو کیا پھر بھی ایسا ہو گا فرمایا اگر چہ وہ ظالم ہوں اگر چہ وہ ظالم ہوں اگرچہ وہ ظالم ہوں۔“ آنحضور کا والدین کا احترام مشكوة المصابيح كتاب الآداب ) آنحضور صلی الم کے والد محترم حضرت عبداللہ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پاگئے تھے اور آپ کی لی کی چھ سال کے تھے جب آپ کی والدہ محترمہ حضرت آمنہ بھی رحلت فرما گئیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب فرما کے والدین کے احترام کے بارے میں جو احکامات دئے دراصل ساری امت کے لئے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں: یعنی " فَلَا تَقُل لَّهُمَا أَيْ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا اپنے والدین کو بیزاری کا کلمہ مت کہو اور ایسی باتیں ان سے نہ کر کہ جن میں ان کی بزرگواری کا لحاظ نہ ہو۔اس آیت کے مخاطب تو آنحضرت صمیمی کم ہیں لیکن دراصل مرجع کلام امت کی طرف ہے کیونکہ آنحضرت صلی الی ایم کے والد اور والدہ آپ کی خوردسالی میں ہی فوت ہو چکے تھے اور اس حکم میں ایک راز بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس آیت سے ایک عقلمند یہ سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ آنحضرت صلی علی نام کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ تو اپنے والدین کی عزت کر اور ہر ایک بول چال میں ان کے بزرگانہ مرتبہ کا لحاظ رکھ تو پھر دوسروں کو اپنے والدین کی کس قدر تعظیم کرنی چاہئے اور اسی کی طرف ہی دوسری آیت اشارہ کرتی ہے۔وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا یعنی تیرے رب نے چاہا کہ تو فقط اسی کی بندگی کر اور والدین سے احسان کر۔۔۔اگر خدا جائز رکھتا کہ اس کے ساتھ کسی اور کی بھی پرستش کی جائے تو یہ حکم دیتا کہ تم والدین کی بھی پرستش کرو۔کیو نکہ وہ بھی مجازی رب ہیں اور ہر ایک شخص طبعاً یہاں تک کہ چرند بھی اپنی اولاد کو ان کی خورد سالی میں ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔پس خدا کی ربوبیت کے بعد ان کی 262