ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 263 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 263

بھی ایک ربوبیت ہے اور وہ جوش ربوبیت کا بھی خدا تعالی کی طرف سے ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ 204 - 205) حضور صلی ا ظلم کو والدین کی خدمت کا موقع تو نہیں ملا مگر آپ انہیں بہت محبت سے یاد فرماتے تھے ان کے لئے دعائیں کرتے تھے۔والدین سے محرومی کی پیاس کو آپ نے رضاعی والدین کی خدمت کر کے بجھایا اور خوب ہی احترام کیا۔ایک دفعہ آپ کی رضاعی والدہ حلیمہ مکہ آئیں اور حضور سے مل کر قحط اور مویشیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔حضور صلی العلیم نے حضرت خدیجہ سے مشورہ کیا اور رضاعی ماں کو چالیس بکریاں اور ایک اونٹ مال سے لدا ہوا دیا۔(طبقات ابن سعد جلد اول صفحه 113 مطبوعہ بیروت 1960) حضرت ابو طفیل بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ملا لی ایم کو مقام جغرانہ میں دیکھا۔آپ گوشت تقسیم فرما رہے تھے۔اس دوران ایک عورت آئی تو حضور نے اس کے لئے اپنی چادر بچھادی اور وہ عورت اس پر بیٹھ گئی۔میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ خاتون کون ہے جس کی حضور اس قدر عزت افزائی فرما رہے ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ آنحضور صلی یم کی رضائی والدہ ہیں۔(ابوداؤد کتاب الادب باب في بر الوالدين ) ایک بار حضور تشریف فرما تھے کہ آپ کے رضاعی والد آئے۔حضور نے ان کے لئے چادر کا ایک پلو بچھا دیا۔پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں تو آپ نے دوسرا پلو بچھا دیا۔پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کمر اپنے سامنے بٹھا لیا۔(سنن ابوداؤ د کتاب الادب باب بر الوالدين ) جنگ حنین میں بنو ہوازن کے قریباً چھ ہزار قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔ان میں حضرت حلیمہ کے قبیلہ والے اور ان کے رشتہ دار بھی تھے جو وفد کی شکل میں حضور صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور کی رضاعت کا حوالہ دے کر آزادی کی درخواست کی۔(یعنی یہ حوالہ دیا کہ حضرت حلیمہ اس قبیلے کی ہیں، ان کا دودھ آنحضرت صلی علی کلم نے پیا ہوا ہے)۔آنحضرت صلی علی کلم نے انصار اور مہاجرین سے مشورہ کے بعد سب کو رہا کردیا۔(طبقات ابن سعد جلد اول صفحہ 114 - 115 بیروت 1960ء) 263