ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 257 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 257

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تھا اور ہماری مجلسوں میں اُسے مس گلابو کہا جاتا تھا۔ایک دفعہ میں گلابو نے اپنے خط کے اندر پھولوں کی پتیاں رکھ دیں حضرت صاحب نے انہیں دیکھ کر فرمایا۔یہ پھول محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی يَأْتِيكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کی پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہیں۔“ (ذکر حبیب صفحہ 99) شخص حضرت پیر سراج الحق نعمانی حضرت اقدس کی پاکیزہ محافل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: بعض وقت میں کوئی لطیفہ سنا دیتا تو ہنستے اور فرماتے کہ صاحبزادہ صاحب اتنے لطیفے تم نے کہاں سے یاد کرلئے ؟ ایک نماز نہیں پڑھتا تھا وہ اتفاق سے ایک کام کے لئے مسجد مبارک میں گیا مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے کہا آج تم کیسے مسجد میں آگئے نماز تو پڑھتے نہیں۔حضرت اقدس نے کچھ نہ فرمایا میں نے کہا کہ حضرت اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک مراثی کا گھوڑا مسجد میں گھس گیا لو گوں نے اس کو دھمکایا اور کہا کہ مراثی تیرے گھوڑے نے مسجد کی بے ادبی کی۔مراثی نے جواب دیا کہ جناب گھوڑا حیوان تھا اس نے مسجد کی بے ادبی کی اور مسجد میں گھس گیا کبھی مجھے بھی دیکھا کہ میں نے کبھی مسجد کی بے ادبی کی ہو اور مجھے کبھی مسجد میں گھستے اور بے ادبی کرتے دیکھا ہے؟ حضرت اقدس ہنسے اور فرمایا اس شخص پر یہ مثال خوب صادق آئی بے شک یہ آج بھولے سے مسجد میں آگیا ہے۔وہ شخص ایسا خفیف اور شرمندہ ہوا کہ اسی روز سے نماز پڑھنے لگا۔(تذکرة المهدی صفحه 179) درج ذیل واقعہ بھی حضرت پیر سراج الحق نعمانی نے بیان کیا: حضرت اقدس نے فرمایا ”آج ہمیں دکھایا گیا ہے کہ ان موجود اور حاضر لو گوں میں کچھ ہم سے پیٹھ دئے بیٹھے ہیں اور ہم سے رو گرداں ہیں اور کراہت کے ساتھ ہم سے دوسری طرف پھیر رکھا ہوا ہے۔یہ باتیں حضرت اقدس کی سن کر میں اور دوسرے اکثر احباب ڈر کر خوف زدہ ہو گئے اور استغفار پڑھنے لگے۔خیر حضرت اقدس جب اندر مکان میں تشریف لے گئے اور اندر سے کنڈی لگالی سید شاہ صاحب بہت ہی گھبرائے اور چہرہ فق ہو گیا اور جلدی سے آپ کے دروازہ کی کنڈی ہلائی حضرت اقدس“ واپس تشریف لائے مسکرا کر فرمایا شاہ صاحب کیا ہے۔کیا کام ہے۔شاہ صاحب نے عرض کیا کہ میں حضور" کو حلف تو نہیں دے سکتا کہ ادب کی جگہ ہے اور نہ میں اوروں کا حال دریافت کرتا ہوں صرف اپنا حال پوچھتا ہوں کہ رُوگردان لوگوں میں میں ہوں یا نہیں۔حضرت اقدس شاہ صاحب کی بات سن کر بہت ہنسے اور 257