ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 256 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 256

کھانا تیار ہو گیا۔حضرت صاحب اس سے بڑے ہنسے اور خوش ہوئے۔(ماخوذ از روایات حضرت میاں عبدالرحیم رجسٹر روایات غیر مطبوعہ جلد 8 صفحہ 228 - 230) روایات بیان فرمودہ حضرت حکیم اللہ بخش صاحب حضرت حکیم اللہ بخش صاحب نے بیان فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے والد صاحب ایک ماہر طبیب تھے۔ایک دفعہ بیاس کے پار سے ایک نوجوان قادر بخش نام ان کا نام سن کر قادیان آیا۔مگر اسے معلوم ہوا کہ وہ تو فوت ہو گئے ہیں۔اس پر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت صاحب نے رہنے کو مکان دیا۔دوا اور غذا سب اپنے پاس سے مہیا فرماتے رہے۔خدا کے فضل سے وہ جلد صحت یاب ہو گیا اور بعد میں کئی دن یہاں رہا۔ایک روز اس نے بانگ کہی چونکہ اُس کی آواز بہت اعلیٰ تھی اس لئے حضرت صاحب نے حکم دیا کہ میاں قادر بخش پانچ وقت تم ہی بانگ کہا کرو۔چونکہ اس کی آواز بہت ہی بلند تھی۔مسلمان تو بہت ہی خوش ہوتے تھے۔مگر ہندوؤں کو تکلیف ہوتی تھی۔وہ دل میں بُرا مناتے تھے۔ایک دفعہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے۔مرزا جی اس قادر بخش کی آواز بہت دور جاتی ہے۔فرمایا آپ کو اس سے کوئی تکلیف تو نہیں پہنچتی؟ کہنے لگے واہ گرو واہ گرو گودی سوں تکلیف نہیں اسیں سگوں راجی ہوندے آں۔پر ایس نوں تسی کہو ایڈی اچی نہ آکھے ذرا نیویں آکھ لیا کرے۔(وا ہے گرو، وا ہے گرو، گائے کی قسم تکلیف نہیں ہم تو بلکہ خوش ہوتے ہیں پر آپ اس کو کہیں اتنی اونچی نہ دیا کرے ذرا ہلکی آواز میں دیا کرے۔ناقل) حضور نے فرمایا جب آپ کو تکلیف نہیں دیتی تو اس سے بھی اونچی کہا کرے گا ”نیویں“ کی کیا ضرورت ہے۔ایک روز میاں قادر بخش کو فرمایا کہ اب تو تو خوب تندرست ہے۔عرض کی۔حضور دیکھنے میں ایسا نظر آتا ہوں میرے بیچ میں کچھ نہیں۔حضور نے ہنس کر فرمایا ( مجھے مخاطب کر کے) دیکھو اللہ بخش! قادر بخش سچ کہتا ہے۔واقعی لہو اور چربی کے سوا اس کے بیچ میں کچھ نہیں۔(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 4 صفحات 60 تا 67) حضرت مفتی محمد صادق تحریر فرماتے ہیں (قریباً 1902ء) میں ایک لیڈی مس روز نام تھی جس کے مضامین اُس ملک کے اخباروں میں اکثر چھپا کرتے تھے میں نے اُس کے ساتھ تبلیغی خط و کتابت شروع کی اور اُس کے خط جب آتے تھے میں عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ترجمہ کر کے سنایا کرتا 256