ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 258
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اپنا دایاں ہاتھ اُٹھا کر اور ہلا کر فرمایا شاہ صاحب تم ان میں نہیں۔شاہ صاحب تم رو گردان لو گوں میں نہیں ہو اور ہنستے ہنستے یہ فرما کر دروازہ بند کرلیا تب فضل شاہ صاحب کی جان میں جان آئی۔الله سة ( تذكرة المهدی صفحه 314) کھیل اور مذاق میں بھی شائستگی رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت اقدس کی مثال دی فرمایا: ہنسی اور مذاق کرنا جائز ہے۔رسول کریم ملا لی ایک مذاق کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود “ بھی مذاق کرتے تھے۔ہم بھی مذاق کر لیتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم مذاق نہیں کرتے۔ہم سو دفعہ مذاق کرتے ہیں لیکن اپنے بچوں سے کرتے ہیں، اپنی بیویوں سے کرتے ہیں۔لیکن اس طرح نہیں کہ اس میں کسی کی تحقیر کا رنگ ہو۔ا گر منہ سے ایسا کلمہ نکل جائے جس میں تحقیر کا ر نگ پایا جاتا ہو تو ہم استغفار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوئی۔۔۔میں اس لحاظ سے برا نہیں مناتا کہ ہنسنا کھیلنا جائز نہیں۔تم بے شک ہنسو اور کھیلو لیکن بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔(یعنی) کھیل کھیل ہے تو ٹھیک ہے لیکن اگر باپ کی داڑھی سے بھی کھیلا جائے تو یہ جائز نہیں۔خدا تعالیٰ کا مقام خدا تعالیٰ کو دو۔فٹبال کا مقام فٹبال کو دو۔مشاعرے کا مقام مشاعرے کو دو اور پیشگوئیوں کا مقام پیشگوئیوں کو دو۔اگر تمہیں کھیل اور تمسخر کا شوق ہو تو لاہور جاؤ اور مشاعروں میں جا کر شامل ہو جاؤ۔اگر تم لاہور جا کر ایسا کرو گے تو لوگ یہی کہیں گے کہ لاہور والوں نے ایسا کیا۔یہ نہیں کہیں گے کہ احمدیوں نے ایسا کیا۔لیکن یہاں اس کا دسواں بھی کرو گے تو لوگ کہیں گے کہ احمدیوں نے ایسا کیا۔پس میں تمہیں ہنسی سے نہیں روکتا۔میں یہ کہتا ہوں کہ ہنسی میں اس حد تک نہ بڑھو جس میں جماعت کی بدنامی ہو۔“ حصہ۔الفضل 12 مارچ 1952ء صفحہ 4) روزنامه الفضل آن لائن لندن 26 اگست 2022ء) 258