ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 158 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 158

سے لٹک رہی تھی۔سونت لی اور آپ کو بیدار کر کے یوں للکارا کہ بتاؤ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ آپ لیٹے ہوئے تھے، کوئی ساتھی اور محافظ پاس نہ تھا، تلوار آپ کے سر پر لہرا رہی تھی۔اس حالت میں تو بڑے بڑے بہادروں کا پتا پانی ہو جاتا ہے۔لیکن جرآت و استقامت اور تو کل علی اللہ کی شان دیکھیے کہ آپ نے نہایت پر سکون اور پر اعتماد انداز میں فرمایا: اللہ اللہ اللہ“ یہ پر شوکت لفظ سن کر دشمن پر کپکپی طاری ہو گئی۔تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔آپ اٹھے، تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور حملہ آور سے کہا کہ اب تم بتاؤ کہ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ بے چارہ اس قدر مبہوت ہوا کہ آپ کے قدموں میں گر گیا۔آپ نے اسے جانے دیا۔ایسا تو کل، ایسی جرات اور ایسا عفو تو اس انسان نے کبھی ساری زندگی نہ دیکھا ہو گا۔اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ واپس اپنے ساتھیوں کو کہنے لگا کہ میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو دنیا کا بہترین انسان ہے! کیا ہی سچی بات ہے جو اس دیہاتی کی زبان سے جاری ہوئی۔بخاری کتاب المغازی باب غزوہ ذات الرقاع ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو تو کل کا درس دیا۔فرماتے ہیں: جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے دو بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلتا ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، اور نہ کسی بھی کام کی قدرت میسر آسکتی ہے نہ قوت، مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے تو اس کو کہہ دیا جاتا ہے کہ تو نے ہدایت پائی، تیری کفالت کر دی گئی، مجھے ہر شر سے بچادیا گیا اور شیطان اس سے دور ہٹ جاتا ہے۔“ (ابوداؤد، ترمذی) اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسے اس پر بھروسہ کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح رزق عطا فرمائے گا جیسے پرندوں کو عطا فرماتا ہے کہ وہ صبح کے وقت خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔“ (ترمذی، ابواب الزهد ، باب فی التوکل علی اللہ حدیث 2351 پھر ایک دعا کا اس طرح ذکر آتا ہے کہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب آپ رکوع میں جاتے تو یہ دعا کرتے تھے کہ :۔158