ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 157
حضرت اقدس مسیح موعود آنحضور صلی ایل کے تو کل کے بارے میں فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا تعالیٰ پر چھوڑے اس کا نام تو کل ہے۔اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف تو کل کرتا ہے تو اس کا تو کل پھو کا ہو گا اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ پر توکل نہیں ہے۔تو وہ تدبیر بھی پھو کی ہو گی۔ایک شخص اونٹ پر سوار تھا۔آنحضرت صلی الیکم کو اس نے دیکھا۔تعظیم کے لئے نیچے اترا اور ارادہ کیا کہ تو کل کرے اور تدبیر نہ کرے۔چنانچہ اس نے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا۔جب رسول اللہ صلی علی میم سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے۔واپس آکر آنحضرت صلی الم سے شکایت کی کہ میں نے تو کل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا۔آپ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی۔پہلے اونٹ کا گھٹا باندھتا، پھر تو کل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔(ملفوظات جلد 3 صفحہ 566 ایڈیشن 1988ء) حضرت ابو بکر فرماتے ہیں میں رسول کریم صلی اللی نیلم کے ساتھ غار میں تھا۔میں نے اپنا سر اٹھا کر نظر کی تو تعاقب کرنے والوں کے پاؤں دیکھے اس پر میں نے رسول کریم کی یا نیلم سے عرض کیا یا رسول اللہ لی لی اگر کوئی نظر نیچی کرے گا۔تو ہمیں دیکھ لے گا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا:اے ابو بکر! ڈرومت۔ہم دو ہیں ہمارے ساتھ تیسرا خدا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: (بخاری کتاب المناقب باب هجرة النبي ) اللہ اللہ! کیا تو کل ہے۔دشمن سر پر کھڑا ہے اور اتنا نزدیک ہے کہ ذرا آنکھ نیچی کرے اور دیکھ لے لیکن آپ کو خدا تعالیٰ پر ایسا یقین ہے کہ باوجود سب اسباب مخالف کے جمع ہو جانے کے آپ یہی فرماتے ہیں کہ یہ کیوں کر ہو سکتا ہے خدا تو ہمارے ساتھ ہے پھر وہ کیوں کر دیکھ سکتے ہیں؟“۔الله الله الله (سيرة النبي صفحه 94) ایک غزوہ سے واپسی کے موقع پر آرام کی غرض سے آپ ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔باقی صحابہ بھی الگ الگ آرام کر رہے تھے۔ایک دشمن آپ کی گھات میں تھا۔اس نے آپ کی تلوار جو درخت 157