ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 159
اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ أَنْتَ رَبِّي خَشَعَ سَبْعِي صَرِى وَدَمِنْ وَلَحْيِي وَعَظْمِي وَعَصْبِيْ لِلَّهِ رَبِّ العَلَمِينَ کہ اے اللہ ! میں نے تیرے لئے رکوع کیا میں تجھ پر ایمان لایا، تیرے لئے مسلمان ہوا، اور تجھ پر تو کل کیا۔تو ہی میرا رب ہے۔میری سماعت اور بصارت، خون اور گوشت اور ہڈیاں اور اعصاب اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہیں۔جو تمام جہانوں کا رب ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں: النسائی کتاب التطبيق باب نوع آخر ) ”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل متبتل تھے ویسے ہی کامل متوکل بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ اتنے وجاہت والے اور قوم و قبائل کے سرداروں کی ذرا بھی پروا نہیں کی اور ان کی مخالفت سے کچھ بھی متاثر نہ ہوئے۔آپ میں ایک فوق العادت یقین خدا تعالیٰ کی ذات پر تھا۔اسی لئے اس قدر عظیم الشان بوجھ کو آپ نے اٹھا لیا اور ساری دنیا کی مخالفت کی اور ان کی کچھ بھی ہستی نہ سمجھی۔یہ بڑا نمونہ ہے تو کل کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔اس لئے کہ اس میں خدا کو پسند کر کے دنیا کو مخالف بنا لیا جاتا ہے۔مگر حالت پیدا نہیں ہوتی جب تک گویا خدا کو نہ دیکھ لے، جب تک یہ امید نہ ہو کہ اس کے بعد دوسرا دروازہ ضرور کھلنے والا ہے۔جب یہ امید اور یقین ہو جاتا ہے تو وہ عزیزوں کو خدا کی راہ میں دشمن بنا لیتا ہے۔اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ خدا اور دوست بنا دے گا۔جائیداد کھو دیتا ہے کہ اس سے بہتر ملنے کا یقین ہوتا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ خدا ہی کی رضا کو مقدم کرنا تو تبتل ہے اور پھر تبتل اور تو کل توام ہیں۔یعنی تبتل کا راز توکل ہے اور توکل کی شرط ہے تبتل۔یہی ہمارا مذہب اس امر میں ہے۔“ (الحکم جلد 5 نمبر 37، 10 اکتوبر 1901ء صفحہ 3) آنحضور کے ظل اور عکس حضرت مسیح موعود کا تو کل علی اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے اصلاح خلق پر مامور فرمایا تو ساتھ ہی ان کی جمعیت خاطر اور تقویت قلب کے لئے اپنی تائید و نصرت پر ایمان کے لئے کثرت سے الہام فرمائے۔آپ کو الہام ہوا: یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ 159