ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 414 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 414

بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لئے کچھ نہیں چھوڑ گئے انہوں نے آسمان پر تمہارے لئے بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا“ آخری نماز فجر کی نماز الفضل 19 جنوری 1962ء صفحہ 15) 26 مئی کی صبح آپ کو صرف ایک فکر تھا۔فکر تھا تو نماز کا رات بھر طبیعت خراب رہی۔جب ذرا روشنی ہو گئی تو حضور علیہ السلام نے پوچھا ”کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے ؟“ عرض کیا گیا ”ہاں حضور ہو گیا ہے۔66 اس پر آپ نے بستر پر ہی ہاتھ مار کر تیم کیا اور لیٹے لیٹے نماز شروع کر دی اسی حالت میں تھے کہ غشی سی طاری ہو گئی اور نماز کو پورا نہ کر سکے تھوڑی دیر بعد آپ علیہ السلام نے پھر دریافت فرمایا کہ ”صبح کی نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ عرض کیا گیا حضور ہو گیا ہے آپ علیہ السلام نے پھر نیت باندھی مگر۔۔۔نماز پوری نہ کر سکے۔اس وقت آپ علیہ السلام کی حالت سخت کرب اور گھبراہٹ کی تھی۔،، (سیرت المہدی حصہ اول صفحہ 9) حضرت اقدس کے لبوں پہ آخری الفاظ اللہ میرے پیارے اللہ کے الفاظ جاری تھے۔ضعف لحظہ بلحظہ بڑھتا جاتا تھا۔قریباً ساڑھے دس بجے دو ایک دفعہ لمبے سانس آئے روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور خدا کا بر گزیدہ، قرآن کا فدائی، اسلام کا شیدائی، محمد مصطفی صلی الل نظم کا عاشق اور دین محمدی کا فتح نصیب جرنیل جس نے اپنی پوری عمر علمی اور قلمی جہاد کی قیادت میں بسر کی تھی، اپنے اہل بیت اور اپنے عشاق کو سو گوار اور افسردہ چھوڑ کر اپنے آسمانی آقا کے دربار میں حاضر ہو گیا انا للہ و انا الیہ راجعون۔وفات کے وقت حضور علیہ السلام کی عمر سوا تہتر سال کے قریب تھی۔دن منگل کا اور سشمسی تاریخ 26 مئی 1908ء جو (ڈاکٹر محمد شہید اللہ صاحب پروفیسر راجشاہی یونیورسٹی کی جدید تحقیق کے مطابق آنحضور صلی ال سالم الله 414