ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 415
کا یوم وصال بھی ہے۔تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 541 - 542) وفات کی خبر پر آنحضرت صلی علی ظلم اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عشاق کی بے یقینی کے عالم میں مماثلت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں پڑھئے۔”آپ کے ساتھ جو محبت آپ کی جماعت کو تھی اس کا حال اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ بہت تھے جو آپ کی نعش مبارک صریحاً اپنی آنکھوں کے سامنے پڑا دیکھتے تھے مگر وہ اس بات کو قبول کرنے کو تو تیار تھے کہ اپنے حواس کو مختلف مان لیں لیکن یہ باور کرنا انہیں نا گوار تھا کہ ان کا حبیب ان سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو گیا ہے۔۔آج سے تیرہ سو سال پہلے ایک شخص جو خاتم النبیین بن کر آیا تھا اس کی وفات پر نہایت سچے دل سے ایک شاعر نے یہ صداقت بھرا شعر کہا تھا کہ: كنت السواد الناظري فعمى على الناظر من شاء بعدك فليمت فعليك كنت احاذر ترجمہ: تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا تیری موت سے میری آنکھ اندھی ہو گئی ہے۔اب تیرے بعد کوئی پڑا مرا کرے ہمیں اس کی پرواہ نہیں کیو نکہ ہم تو تیری ہی موت سے ڈر رہے تھے۔آج تیرہ سو سال بعد اس نبی صلی علی یوم کے ایک غلام کی وفات پر پھر وہی نظارہ چشم فلک نے دیکھا کہ جنہوں نے اسے پہچان لیا تھا ان کا یہ حال تھا کہ دنیا ان کی نظروں میں حقیر ہو گئی تھی اور ان کی تمام تر خوشی اگلے جہان میں چلی گئی تھی۔۔۔خواہ صدی بھی گزر جائے مگر وہ دن ان کو کبھی نہیں بھول سکتے جبکہ خدا تعالی کا پیارا رسول ان کے درمیان چلتا پھرتا تھا۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود از حضرت خلیفۃ المسیح ثانی صفحہ 58 - 59) اپنے آقا و مطاع عصای لی ایم کے نقوش قدم سے غیر معمولی مشابہت کو سچائی کے نشان کے طور پر پیش کرتے ہوئے آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: کہ میری سچائی کے نشانات میں سے ایک نشان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے رسول کی اتباع اور پیروی کی توفیق دی ہے۔میں نے آثار نبویہ میں سے کوئی اثر نہیں دیکھا مگر میں نے اس کی پیروی کی ہے اور مشکلات کے ہر پہاڑ کو سر کیا ہے اور میرے رب نے مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دیا ہے جن پر اس نے 415