ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 336
سی خطائیں ہوتی ہیں اور کسی نہ کسی میں وہ سزا پا لیتے ہیں“ اپنے (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 478 – 480) متبعین کو بھی سچ کی عادت ڈالنے اور جھوٹ سے نفرت کی تاکید فرمائی۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور یہ جس قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ( ج : 31) دیکھو یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے۔ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے، تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔مدت تک ریاضت کریں۔تب جا کر سچ بولنے کی عادت اُن کو ہو گی۔“ ایک اور جگہ فرمایا: (ملفوظات جلد 3 صفحہ 350 ایڈیشن 1985ء) بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پرہیز کرو۔یعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر یہ بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔“ ایک الہامی شعر میں صادق کی تعریف بتائی گئی۔اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 361) صادق آن باشد که ایام بلا ے گزار دیا محبت باوفا ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 373) یعنی خدا کی نظر میں صادق وہ شخص ہوتا ہے کہ جو بلا کے دنوں کو محبت اور وفا کے ساتھ گزارتا ہے۔روزنامه الفضل آن لائن لندن 21 اکتوبر 2022ء) 336