ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 328
لوگ جوق در جوق لوہے کی طرح اس مقناطیس کی طرف کھنچے چلے آتے۔مولویوں کے فتووں کی پرواہ کرتے نہ ان کی دھمکیوں سے ڈرتے۔اپنے بھی آتے اور بیگانے بھی۔دوست بھی اور دشمن بھی۔موافق بھی اور مخالف بھی۔محبت سے بھی اور عداوت سے بھی۔علماء بھی آتے اور امراء بھی۔الغرض عوام اور خواص، عالم اور فاضل، گریجوایٹ اور فلاسفر، ہر طبقہ اور ہر رتبہ کے لوگ جمع ہوتے اپنے علم و مذاق کے مطابق سوالات کرتے اور جواب پاتے تھے۔اس اقبال اور رجوع خلق کو دیکھ کر مولوی لو گوں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔وہ اس منظر کو برداشت نہ کر سکے اور آپے سے باہر ہو گئے۔انہوں نے بالمقابل ایک اڈا قائم کیا جہاں ہر روز مخالفانہ تقریریں کرتے۔گالی گلوچ اور سب و شتم کا بازار گرم رکھتے۔افتراء پردازی اور بہتان طرازی کے ایسے شرمناک مظاہرے کرتے کہ انسانیت ان کی ایسی کرتوتوں پر سر پیٹتی اور اخلاق و شرافت کا جنازہ اٹھ جاتا۔توہین و دل آزاری اتنی کرتے کہ قوت برداشت اس کی متحمل نہ ہو سکتی۔مجبور ہو کر، تنگ آکر بعض دوستوں نے حضرت کے حضور اپنے درد کا اظہار کیا تو حضور نے یہی نصیحت فرمائی کہ: گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو “ صبر کرو اور ان کی گالیوں کی پرواہ نہ کیا کرو۔برتن میں جو کچھ ہوتا ہے وہی نکلتا ہے۔دراصل ان کو سمجھ نہیں کیونکہ اس طرح تو وہ آپ ہماری فتح اور اپنی شکست کا ثبوت بہم پہنچاتے ہماری صداقت اور اپنے بطلان پر مہر تصدیق لگاتے ہیں۔منہ پھیر کر ، کان لپیٹ کر نکل آیا کرو۔کہتے ہیں ” صبر گرچه تلخ است لکن بر شیریں دار د“ صبر کا اجر ہے حضور پرنور کی یہ نصیحت کارگر ہوئی۔غلاموں نے کانوں میں روئی ڈال کر، کلیجوں پر پتھر باندھ کر یہ سب و شتم سنا اور برداشت کیا۔اف تک نہ کی اور اپنے آقا نامدار کی تعلیم پر ایسی طرح عمل کر کے دکھایا کہ جس کی مثال قرونِ اولیٰ کے سوا بہت ہی کم دنیا میں پائی جاتی ہے۔چنانچہ اس کے خوش کن نتائج اور ثمرات شیریں بھی ملنے شروع ہو گئے اور باوجود مخالفوں کی مخالفت کے علی رغم انف، سلیم الطبع اور شریف المزاج انسانوں نے اس زمانہ میں اس کثرت سے بیعت کی کہ ہمارے اخبارات ان اسماء کی اشاعت کی گنجائش نہ پا سکے اور اعلان کیا کہ ” بقدر گنجائش اِنْ شَاءَ الله بتدریج اسماء بیعت کند گان شائع کئے جاتے رہیں گے۔“ (سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ 388 - 389) روزنامه الفضل آن لائن لندن 14 اکتوبر 2022ء) 328