ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 327 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 327

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام تو گالیوں کا طومار ہوتا ہے۔ایسی فحش گالیاں ہوتی ہیں کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ کسی پیغمبر کو بھی ایسی گالیاں نہیں دی گئی ہیں اور میں اعتبار نہیں کرتا کہ ابو جہل میں بھی ایسی گالیوں کا مادہ ہو۔لیکن یہ سب کچھ سننا پڑتا ہے۔جب میں صبر کرتا ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی صبر کرو۔درخت سے بڑھ کر تو شاخ نہیں ہوتی۔تم دیکھو کہ یہ کب تک گالیاں دیں گے۔آخر یہی تھک کر رہ جائیں گے۔ان کی گالیاں، ان کی شرارتیں اور منصوبے مجھے ہر گز نہیں تھکا سکتے۔اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بیشک میں ان کی گالیوں سے ڈر جاتا۔لیکن میں یقیناً جانتا ہوں کہ مجھے خدا نے مامور کیا ہے پھر میں ایسی خفیف باتوں کی کیا پروا کروں۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔تم خود غور کرو کہ ان کی گالیوں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے؟ ان کو یا مجھے؟ ان کی جماعت کھٹی ہے اور میری بڑھی ہے۔اگر یہ گالیاں کوئی روک پیدا کر سکتی ہیں تو دو لاکھ سے زیادہ جماعت کس طرح پیدا ہو گئی یہ لوگ ان میں سے ہی آئے ہیں یا کہیں اور سے؟ انہوں نے مجھے پر کفر کے فتوے لگائے لیکن اس فتوی کفر کی کیا تاثیر ہوئی؟ جماعت بڑھی اگر یہ سلسلہ منصوبہ بازی سے چلایا گیا ہوتا تو ضرور تھا کہ اس فتویٰ کا اثر ہوتا اور میری راہ میں وہ فتویٰ کفر بڑی بھاری روک پیدا کر دیتا۔لیکن جو بات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو انسان کا مقدور نہیں ہے کہ اسے پامال کر سکے۔جو کچھ منصوبے میرے مخالف کئے جاتے ہیں پہچان کرنے والوں کو حسرت ہی ہوتی ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں ایک عظیم الشان دریا کے سامنے جو اپنے پورے زور سے آ رہا ہے اپنا ہاتھ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اس سے رک جاوے۔مگر اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ رک نہیں سکتا۔یہ ان گالیوں سے رو کنا چاہتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ کبھی نہیں رکے گا۔کیا شریف آدمیوں کا کام ہے کہ گالیاں دے۔میں ان مسلمانوں پر افسوس کرتا ہوں کہ یہ کس قسم کے مسلمان ہیں جو ایسی بے باکی سے زبان کھولتے ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایسی گندی گالیاں میں نے تو کبھی کسی چوڑے چمار سے بھی نہیں سنی ہیں جو ان مسلمان کہلانے والوں سے سنی ہیں۔ان گالیوں میں یہ لوگ اپنی حالت کا اظہار کرتے ہیں اور اعتراف کرتے ہیں کہ وہ فاسق و فاجر ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور ان پر رحم کرے۔“ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 203 - 205 ایڈیشن 1985ء) ایام قیام لاہور میں حضور کو بہت ہی مصروفیت رہا کرتی تھی۔کیونکہ حضور کے لاہور پہنچتے ہی سارے شہر میں ہلچل مچ گئی اور ایک شور بپا ہو گیا۔جس کی وجہ سے ہر قسم کے لوگ اس کثرت سے آتے رہتے تھے کہ خلق خدا کا تانتا بندھا رہتا اور رجوع کا یہ عالم تھا کہ باوجود مخالفانہ کوششوں اور سخت رو کوں کے 327