ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 329
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 40 سچائی، راستبازی، صداقت شعاری اللہ تعالیٰ اصدق الصادقین ہے جس نے دنیا کو صدق کا پیغام دینے کے لئے قرآن کریم اور حضرت رسولِ کریم صلی ال کو نازل فرمایا اور حق کی آمد کے ساتھ باطل کے فرار کی پیش گوئی فرمائی: وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ) (بنی اسرائیل: 82) حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔یقیناً باطل بھاگ جانے والا ہی ہے۔محبوب خدائی لی کم بچپن سے ہی سچ بولا کرتے تھے اور جھوٹ سے سخت نفرت تھی۔آپ کے شب و روز جس بستی میں گزرے اس کے مکین آپ کے اوصاف کریمانہ کی ستائش میں رطب اللسان تھے۔آپ کی عزت کرتے تھے آپ کو پسند کرتے تھے۔اچھی شہرت تھی۔آپ حق گوئی کے اعتراف میں ”صادق اور امین“ کے لقب سے یاد کئے جاتے تھے۔آپ کو صدوق بھی کہا جاتا تھا یعنی صادق کی اعلیٰ و ارفع صورت۔تاریخ نے ایسے بے شمار واقعات محفوظ کئے ہیں جو آپ کی بے خوف، بے لاگ صداقت کے گواہ ہیں۔جب آپ پہلی وحی کے بعد گھبرائے ہوئے گھر تشریف لائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو ساری کیفیت سنائی تو آپ نے جن الفاظ میں تسلی دی وہ آپ کی سچائی کی ناقابل تردید گواہی ہے۔انہوں نے آپ کی چند صفات بیان کیں جن میں یہ اہم صفت بھی تھی کہ آپ تو ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔(بخاری 95 کتاب التعبير باب 1) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنحضور صلی الم کی سیرت و شمائل کے بارے میں فرمایا كَانَ خُلُقُةُ القُرآن کہ آپ کے اخلاق قرآن کے عین مطابق تھے۔قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی قولی کتاب ہے۔رسول اللہ صلی ملی یکم اور قانون قدرت اس کی فعلی کتاب ہیں۔آپ کی زندگی قرآن کریم کی تصویر اور تفسیر ہے۔اسی لئے آپ کی نمایاں صفت حق گوئی، سچائی اور راست بازی ہے۔نبی اللہ کا منصب عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو قریبی عزیزوں کو پیغام دینے کا ارشاد فرمایا تو آپ نے ان کو دعوت پر بلایا۔بات کا آغاز اس طرح کیا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بہت بڑا لشکر چھپا ہوا ہے تو کیا تم اسے تسلیم کر لو گے؟ کہا جاتا ہے کہ پہاڑ ایک ٹیلہ سا تھا اتنا بڑا نہیں 329