ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 190
اس سے آگے نہ ہوں“۔ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام (مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 136 - 137 مطبوعہ بیروت) غزوہ احد میں بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ نیم قریباً اکیلے ہی رہ جاتے تھے۔کسی ایسے ہی موقعہ پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مشرک بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا ایک پتھر آپ کے چہرہ مبارک پر لگا جس سے آپ کا ایک دانت ٹوٹ گیا اور ہونٹ بھی زخمی ہوا۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک اور پتھر جو عبد اللہ بن شہاب نے پھینکا تھا اس نے آپ کی پیشانی کو زخمی کیا اور تھوڑی دیر کے بعد تیسرا پتھر جو ابن قمئہ نے پھینکا تھا آپ کے رخسار مبارک پر لگا جس سے آپ کے خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں چھ گئیں۔( السيرة النبوية لابن هشام غزوة احد مالقيه الرسول يوم احد ) جنگ اُحد میں رسول الله صل الله علم زخمی ہونے کے بعد جب صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ ایک گھاٹی میں ٹھیک لگائے ہوئے تھے۔ابی بن خلف نے رسول اللہ کی تعلیم کو دیکھ کر للکارتے ہوئے پکارا کہ اے محمد صل الیکم اگر آج تم بچ گئے تو میری زندگی عبث ہے، فضول ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا ہم میں سے کوئی اس کی طرف بڑھے رسول اللہ صلی العلیم نے فرمایا تم اسے چھوڑ دو اور راستے سے ہٹ جاؤ۔اسے میری طرف آنے دو جب وہ رسول اللہصلی العلیم کے قریب آیا تو حضور صلی علی کریم نے نیزہ تھام لیا اور آگے بڑھ کر اس کی گردن پر ایک ہی وار کیا جس سے وہ چنگھاڑتا ہوا مڑا اور اپنے گھوڑے سے زمین پر گر گیا، قلا بازیاں کھانے لگا۔الله سة ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة احد مقتل ابی بن خلف ) غزوہ اُحد کے اگلے دن جب رسول کریم صلی عملی کام اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مدینہ پہنچے تو آپ کو یہ اطلاع ملی که کفار مکہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے ہیں کیونکہ بعض قریش ایک دوسرے کو یہ طعنے دے رہے تھے کہ نہ تو تم نے محمد کو قتل کیا (نعوذ باللہ) اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قبضہ کیا۔اس پر رسول کریم ملی کی نیلم نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا۔حضور صلی الیم نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کا تعاقب کریں گے اور اس تعاقب کے لئے میرے الله سة ساتھ صرف وہ صحابہ رضی اللہ عنہم شامل ہوں گے جو گزشتہ روز غزوہ اُحد میں شامل ہوئے تھے۔( الطبقات الكبرى لابن سعد ذكر عدد مغازی رسول اللہ غزوة رسول الله صلى تميم حمراء الاسد) 190