ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 191 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 191

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ایک دفعہ ایک شخص حضرت براء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے جنگ حنین کے موقع پر دشمن کے مقابلے پر پیٹھ پھیر لی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں سب کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں آنحضرت کے بارے میں ضرور گواہی دوں گا کہ آپ نے دشمن کے شدید حملے کے وقت بھی پیٹھ نہیں پھیری تھی۔پھر انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ ہوازن قبیلے کے خلاف جب مسلمانوں کا لشکر نکلا تو انہوں نے بہت ہلکے پھلکے ہتھیار پہنے ہوئے تھے یعنی ان کے پاس زر ہیں وغیرہ اور بڑا اسلحہ نہیں تھا اور ان میں بہت سے ایسے تھے جو بالکل نہتے تھے۔لیکن اس کے مقابل پر ہوازن کے لوگ بڑے کہنہ مشق تیر انداز تھے۔جب مسلمانوں کا لشکر ان کی طرف بڑھا تو انہوں نے اس پر تیروں کی ایسی بوچھاڑ کر دی جیسے ٹڈی دل کھیتوں پر حملہ کرتی ہے۔اس حملے کی تاب نہ لا کر بکھر گئے۔لیکن اُن کا ایک گروہ آنحضرت صلی علیم کی طرف بڑھا۔حضور صلی الی یکم ایک خچر پر سوار تھے جسے آپ کے چچا ابو سفیان بن حارث لگام سے پکڑے ہوئے ہانک رہے تھے۔جب مسلمانوں کو اس طرح بکھرتے ہوئے دیکھا تو آپ کچھ وقفے کے لئے اپنے فیچر سے نیچے اترے اور اپنے مولا کے حضور دعا کی۔پھر آپ خچر پر سوار ہو کر مسلمانوں کو مددد کے لئے بلاتے ہوئے دشمن کی طرف بڑھے اور آپ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے لشکر : مسلمان أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَا ابْن عَبْدِ الْمُطَّلِبُ میں خدا کا نبی ہوں اور یہ سچی بات ہے لیکن میں وہی عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔یعنی میری غیر معمولی جرآت دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ میں کوئی فوق البشر چیز ہوں۔ایک انسان ہوں اور اسی طرح جرات دکھا رہا ہوں اور آپ یہ دعا کرتے جاتے تھے کہ اللّهُمَّ نَزِّلُ نَصْرَكَ اے خدا! اپنی مدد نازل کر۔پھر حضرت براء نے کہا کہ حضور کی کمی کی شجاعت کا حال سنو کہ جب جنگ جو بن پر ہوتی تھی تو ہم لوگ اس وقت حضور صلی ا ہم کو ہی اپنی ڈھال اور اپنی آڑ بنایا کرتے تھے اور ہم میں سے سب سے زیاہ وہی بہادر سمجھا جاتا تھا جو حضور صلی می کنیم کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔( صحیح مسلم کتاب الجهاد باب غز ولا حنين ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ: نبی کریم صلی ایلیم سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے اور سب انسانوں سے زیادہ بہادر تھے۔ایک رات اہل مدینہ کو خطرہ محسوس ہوا۔کسی طرف سے کوئی آواز آئی اور لوگ آواز کی طرف دوڑے۔تو سامنے الله سة 191