ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 189 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 189

آپ کو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی پھر دشمن کے چلے جانے کے بعد اور یہ اطمینان ہو جانے کے بعد کہ اب غار سے نکل کر اگلا سفر شروع کیا جا سکتا ہے۔آپ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ غار سے نکلے اور جو بھی انتظام کیا تھا اس کے مطابق وہاں سواریاں پہنچ گئی تھیں۔ان پر سوار ہوئے اور سفر شروع ہو گیا۔لیکن کفار مکہ نے آپ کے پکڑے جانے کے لئے 100 اونٹ کا انعام مقرر کیا ہوا تھا اور اس کے لالچ میں کئی لوگ آپ کئی کام کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ان میں ایک سراقہ رضی اللہ عنہ بن مالک بھی تھے تو ان کا بیان ہے کہ: میں گھوڑا دوڑاتے دوڑاتے رسول کریم صلی لالی اور ملک کے اس قدر نزد یک ہو گیا کہ میں آپ کے قرآن پڑھنے کی آواز سن رہا تھا۔میں نے دیکھا کہ آپ دائیں بائیں بالکل نہیں دیکھتے تھے ہاں حضرت ابو بکر بار بار دیکھتے جاتے تھے۔تو اس حالت میں بھی آپ کو کوئی گھبراہٹ نہیں تھی بلکہ آرام سے کلام الہی کی تلاوت فرما رہے تھے“ (بخاری کتاب مناقب الانصار باب هجرة النبي واصحابه الى المدينة ) دشمن کے حملوں کے وقت آپ جرات و بہادری کے حیران کن اعلی جوہر دکھا رہے ہوتے تھے۔صحابہ رضی اللہ عنہم بھی بہت بہادر تھے مگر آپ ان سب سے آگے صف اول میں تھے۔چنانچہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: ”خدا کی قسم! جب شدید لڑائی شروع ہو جاتی تو ہم رسول کریم کو ڈھال بنا کر لڑتے تھے اور ہم میں سے بہادر وہی سمجھا جاتا تھا جو رسول کریم کے شانہ بشانہ لڑتا تھا۔“ آپ خطرے کے وقت مسلم كتاب الجهاد باب غزوة حنين ) دوسروں کے لئے ڈھال بن جاتے پھر جنگ بدر کے موقع پر آپ کی جرات و بہادری کا ایک واقعہ ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی ال نام کے صحابہ مدینے سے روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر کے میدان میں پہنچ گئے۔پھر مشرکین بھی پہنچ گئے۔تو آنحضرت صلی الیم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آگے نہ بڑھے جب تک میں سة 189