راکھا — Page 125
آپ ﷺ کا نمونہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔آپ کے بارے میں تو احادیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ گھر کے کاموں میں ازواج مطہرات کی مدد فر ما یا کرتے تھے۔سودا سلف بازار سےخود اٹھا کر لاتے۔اپنے کپڑوں کو خود پیوند لگا لیتے تھے۔بکریوں کا دودھ دھوتے بلکہ چولہے میں آگ جلانے میں مددفرماتے۔رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو نہ جگاتے اور خود ہی کھانا تناول فرما لیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں مددفرماتے۔بچوں کو اٹھاتے ، انہیں بہلاتے ، بارش آنے پر چار پائیاں اور بستر اندر کرنے میں مددفرماتے۔حضرت خلیفتہ المسیح الرابع اپنے بہت سے کام خود کیا کرتے تھے اور اپنا ناشتہ بھی خود تیار کرلیا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : دو بعض ایسی شکایات بھی آتی ہیں کہ ایک شخص گھر میں کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے، پیاس لگی تو بیوی کو آواز دی کہ فریج میں سے پانی یا جوس نکال کر مجھے پلا دو۔حالانکہ قریب ہی فریج پڑا ہوا ہے خود نکال کر پی سکتے ہیں اور اگر بیوی بیچاری اپنے کام کی وجہ سے یا مصروفیت کی وجہ سے یا کسی وجہ سے لیٹ ہوگئی تو پھر اس پر گر جنا ، برسنا شروع کر دیا۔تو ایک طرف تو یہ دعویٰ کہ ہمیں آنحضرت ے سے محبت ہے اور دوسری طرف عمل کیا ہے، ادنیٰ سے اخلاق کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے۔۔۔حضرت عائشہ ایک روایت کرتی ہیں کہ اگر آپ ﷺ رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو زحمت دیئے یا جگائے بغیر خود ہی کھانا لے کر تناول فرما لیتے یا دودھ ہوتا تو خود ہی لے کر نوش فرما لیتے۔( مسلم کتاب الاشربہ باب اكرام الضيف ) یہ اسوہ ہے آنحضرت میلے کا لیکن بعض مثالیں ایسی سامنے آتی 125