راکھا — Page 124
دیا ہے ورنہ باپ کا حق اوّل ہے اس لئے باپ ماں کہنا چاہئے ، سے بہت ہی نیک 66 سلوک کرے۔“ (خطبات نور صفحه ۶۴۱) پس گھر کے نگران کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اُسے بچوں کی تعلیم و تربیت اور اُن کے کردار کی تعمیر سے یہ سمجھ کر غفلت نہیں برتنی چاہئے کہ یہ صرف ماں کا کام ہے۔ایسا ہرگز نہیں، بلکہ یہ خود اُس کا ایک نہایت ہی اہم اور بنیادی فرض ہے اور اسے کسی صورت میں محض بیوی کی ذمہ داری نہیں سمجھنی چاہئے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں جو باپ اپنی اولا دکو دے سکتا ہے۔( ترمذی ) کام کاج میں مدد ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جو گھر میں کسی کام کو ہاتھ لگا نا گویا اپنی ہتک خیال کرتا ہے حتی کہ پانی بھی خود نہیں پیتے جب تک بیوی ، بہن یا بیٹی پیش نہ کرے۔مشرقی ممالک میں پلے بڑھے بعض لوگوں پر اپنے پرانے ماحول اور طرز عمل کی چھاپ اتنی گہری ہے کہ یورپ میں آکر بھی اُن کے اطوار نہیں بدلے۔یاد رکھنا چاہئے کہ یہ سب پرانی ہندوانہ معاشرتی باقیات ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔یہ ایک لحاظ سے بڑائی اور تفاخر کا اظہار بھی ہے۔دُنیا میں خدا کے پاک نبیوں سے بڑھ کر کوئی بھی مگرم اور معظم نہیں ہوتا۔کون ہے جو ہمارے پیارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفے ﷺ سے بڑا ہے اور اُس کی عزت آپ سے کی عزت سے بڑھ کر ہے؟ ایک مسلمان کیلئے تو آپ کا عمل ہی قابلِ تقلید ہونا چاہئے کیونکہ اسی میں ہی ساری عزتیں اور برکتیں ہیں۔آپ ﷺ کی پاکیزہ زندگی تو ایک کھلی کتاب ہے جس میں قدم قدم پر ہمارے لئے پاکیزہ نمونے موجود ہیں۔گھر کے کام کاج میں مدد کے حوالے سے بھی 124