راکھا

by Other Authors

Page 126 of 183

راکھا — Page 126

ہیں، عموماً اب یہ ہوتا ہے کہ مرد لیٹ کام سے واپس آتے ہیں اور یہ روز کا معمول ہے اور اگر بیوی کسی دن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے پہلے کھانا کھا لے تو ایک قیامت برپا ہو جاتی ہے۔موڈ بگڑ جاتے ہیں کہ تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا۔ہمارے معاشرہ میں پاکستانی ، ہندوستانی اس مشرقی معاشرے میں یہ بات زیادہ پیدا ہوتی جارہی ہے، پہلے بھی تھی لیکن پڑھے لکھے ہونے کے ساتھ ساتھ ختم ہونی چاہئے تھی ، اس کی بھی اصلاح کرنی چاہئے۔اور زیادہ سے میرا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک دو فیصد بھی ہمارے اندر ہے تب بھی قابلِ فکر ہے، بڑھ سکتی ہے۔پھر اس وجہ سے خاوند تو جو ناراض ہوتا ہے بیوی سے تو ہوتا ہے، ساس سسر بھی ناراض ہو جاتے ہیں اپنی بہو سے۔کہ تم نے کیوں انتظار نہیں کیا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۲ جولائی ۲۰۰۴ ء بحوالہ افضل انٹر نیشنل ۱۶ تا ۲۲ جولائی ۲۰۰۴ء) طلاق اور حسن سلوک اس کے تین مختلف پہلو ہیں جنہیں ایک مرد کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔اوّل یہ کہ طلاق کو حدیث شریف میں جائز باتوں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس لئے ضروری تھا کہ اس کی تعلیمات میں ہر مشکل کا حل ہوتا۔بعض اوقات مرداور عورت میں ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ اُن کا ایک ساتھ رہنا ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے طلاق رکھ دی۔لیکن خود میاں بیوی ، رشتہ داروں اور ثالثوں کو آخر وقت تک صلح کی کوشش کرنی چاہئے۔بے شک بعض صورتوں میں علیحدگی ناگزیر 126