راکھا

by Other Authors

Page 83 of 183

راکھا — Page 83

صلى الله رسول اللہ ﷺ وہ ہیں جن میں قوت افاضہ کمال درجہ کی پائی جاتی ہے اور صحابہ کرام وہ ہیں جن میں قوت استفاضہ کامل طور پر پائی جاتی ہے۔وہ دونوں آپس میں مل بیٹھیں گے تو ایک نئی دنیا آباد کرنے کا باعث بنیں گے جس طرح مرد اور عورت آپس میں ملتے ہیں تو بچہ تولد ہوتا ہے اسی طرح رسول کریم ﷺ اور صحابہ کرام کا روحانی تعلق ایک نئی آبادی کا پیش خیمہ ہے۔( تفسیر کبیر جلد نهم صفحه ۵۴-۵۶) یہی وجہ ہے کہ انبیاء کی قوموں کو عورت سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جس طرح عورت مرد سے فیضیاب ہوتی ہے اسی طرح قوم بھی اپنے وقت کے نبی سے فیض پاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کی کتب میں نبی کے ماتحت امت کو عورت کہا گیا ہے جیسا کہ قرآنِ شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ عمران کی بیوی سے مشابہت دی گئی ہے۔اناجیل میں بھی مسیح کو دولہا اور امت کو دلہن قرار دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسی کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۸ صفحہ ۸) پس قرآنِ کریم میں جو خاوند کی حیثیت سے مرد کو ہی اکثر مقامات پر مخاطب کر کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے احکامات دیئے گئے ہیں تو اس کی یہی وجہ ہے کہ وہ ذکر یعنی کر ہے اور اُس میں قوت افاضہ ہوتی ہے۔اُس نے اہلِ خانہ کو فیض پہنچانا ہے اس لئے ظاہر ہے ہدایات کی بھی اُسے ہی ضرورت ہے کہ اُس نے یہ سب کام کیسے سرانجام دینے ہیں۔وہ گھر کے پورے نظام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ الْمَرُاَ ةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا۔اس لحاظ سے مرد ہی زیادہ تر اس پوزیشن میں ہے کہ چاہے تو بیوی سے نیک سلوک کرے اور چاہے تو برا۔اس لئے اصولاً نیک سلوک کا تاکیدی حکم بھی اُسے ہی ملنا چاہئے۔83