راکھا

by Other Authors

Page 84 of 183

راکھا — Page 84

اس کے مقابلے میں عورتوں کیلئے جو احکامات قرآن کریم اور احادیث میں بیان ہوئے ہیں اُن میں سے کوئی ایک حکم بھی ایسا نہیں جس میں اُن کی قوت افاضہ کے ظہور کا ذکر ہو۔ایک نبی کو ماننے والے یا ایک مرشد کے مرید اپنے نبی یا پیر کی طرف سے حسن واحسان کے سلوک اور لوگوں کو فیضیاب کرنے کیلئے کچی محنت ، تڑپ اور دلی ہمدردی کے جواب میں اس کی اطاعت، عزت و احترام اور خدمت کرتے اور اس کے کام میں اس کے ممدو معاون ہوتے ہیں۔اسی طرح اسلام میں جہاں مرد کو عورت سے نیک سلوک اور اُسے فیضیاب کرنے کیلئے تفصیلی احکامات دیئے گئے ہیں ، عورت کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بھی خاوند کے نیک سلوک اور اس سے متمتع ہونے کے جواب میں اس کی اطاعت اور خدمت کرے، بچوں کی پرورش اور نگہداشت کرے اور خاوند کے فرائض کی ادائیگی میں اُسکی ممد و معاون ہونے کی خاطر گھر کے ماحول کو خوشگوار رکھے۔چنانچہ عورت کیلئے احکامات کا خلاصہ یہی تین امور ہیں۔ان کا ذکر انشاء اللہ راکھے کے حقوق میں کیا جائے گا۔دوسری بات یہ ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کے حکم کی جس رنگ میں آنحضرت ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفائے احمدیت نے تفاصیل بیان کی ہیں اُس سے بھی اس کی حکمت خود بخود عیاں ہوتی چلی جاتی ہے۔جیسا کہ بیان ہو چکا ہے یہ ایک کثیر الجہات فرض ہے اس لئے اسے کسی قدر تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔مرد کی نیکی جامھنے کا سمانہ: اہل و عیال کے ساتھ حسنِ سلوک کی اس قدر اہمیت اور تاکید ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے مردوں کیلئے نیکی اور اعلیٰ اخلاق کی کسوٹی قرار دیا ہے۔انسان فطرتا چاہتا ہے کہ وہ لوگوں میں نیک اور اچھے اخلاق والا مشہور ہو۔اس لئے بعض لوگ دوسروں کے سامنے ریا کاری سے 84