راکھا

by Other Authors

Page 42 of 183

راکھا — Page 42

عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ۱) اختلاف رائے یہ ممکن ہی نہیں کہ ہر معاملے میں تمام پہلوؤں سے میاں بیوی میں ہمیشہ اتفاق رائے ہی ہو۔یہ کبھی نہیں ہوتا اور کہیں نہیں ہوتا۔عموماً عورتیں اپنے خاوند سے اختلاف کرتی ہیں اور یہ بھی اُن کا ایک مخصوص فطرتی تقاضا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود فر ماتے ہیں: عورت کو مرد سے رقابت ہوتی ہے اور وہ اس کے مخالف چلنے کی طبعا خواہش مند ہوتی ہے۔۔۔اس سے مراد یہ ہے کہ عورتوں کی طبیعت میں ایک قسم کی کبھی ہوتی ہے۔یہ مطلب نہیں کہ عورتوں میں بے ایمانی ہوتی ہے بلکہ یہ ہے کہ عورت کو خاوند کی بات سے کسی قدر رقابت ہوتی ہے۔اور خاوند کی بات پر ضرور اعتراض کرے گی اور جب وہ کوئی بات مانے گی بھی تو تھوڑی بحث کر کے اور یہ اس کی ایک انا کی حالت ہوتی ہے اور اس میں وہ اپنی حکومت کا راز مستور پاتی ہے۔“ سیر روحانی جلد اول صفحه ۵۱-۵۲) اسی طرح لغت کی مشہور کتاب مجمع البحار کے حوالے سے آپ فرماتے ہیں : یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ عورتیں پہلی سے پیدا کی گئی ہیں یہ کلام استعارہ کی قسم سے ہے اور مراد یہ ہے کہ ان کے اخلاق میں ناز کا پہلو غالب ہوتا ہے یعنی خاوند سے اختلاف کرنے کو ان کا دل طبعا چاہتا ہے اور یہ امر تجربہ سے ثابت ہے کہ عورت اپنے خاوند سے اختلاف کر کے اُس سے اپنی بات منواتی ہے اور اس پر اثر ڈال کر اس پر حکومت کرتی ہے۔اسی کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے اور 42