راکھا — Page 41
حضرت ابو ہر میر کا بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عورتوں کی بھلائی اور خیر خواہی کا خیال رکھو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے یعنی اس میں پہلی کی طرح ٹیڑھا پن ہے، پسلی کے اوپر کے حصہ میں زیادہ کبھی ہوتی ہے۔اگر تم اسکو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے۔اگر تم اسے اس کے حال پر ہی رہنے دو گے تو اس کا جو فائدہ ہے وہ تمہیں حاصل ہوتا رہے گا۔پس عورتوں سے نرمی کا سلوک کرو اور اس بارہ میں میری نصیحت مانو۔ایک اور روایت میں ہے کہ عورت پسلی کی طرح ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے لیکن اگر اس کے ٹیڑھے پن کے باوجود اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو گے تو فائدہ اٹھا لو گے۔( بخاری ) چنانچہ سب سے پہلی اصولی بات جو ایک اچھے راکھے کو ذہن نشین رکھنی ہے وہ یہ ہے کہ اُس کی جیون ساتھی کی فطرت میں ناز و نخرے کا پہلو یا بالفاظ دیگر پسلی کی مانند ایک قسم کی کبھی ہے جس کے بارے میں ہدایت ہے کہ کبھی اسے زبر دستی سیدھا کرنے کی کوشش نہیں کرنی کیونکہ ایسا کرنے سے یہ ٹوٹ جائے گی ، سیدھی نہیں ہوگی۔اس لئے دانشمندی اور حکمت سے ناز کے اس فطرتی پہلو کے ساتھ ہی اُس نے اپنی ہم سفر کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے۔در حقیقت ہم پر ا تمام نعمت ہے۔اس کا شکر یہ یہ ہے کہ ہم 41