راکھا — Page 43
فرمایا ہے کہ عورت پر جبری حکومت نہ کیا کرو بلکہ محبت سے اسے منوایا کرو اور اس کے احساسات کا خیال رکھا کرو کیونکہ وہ بہت باتوں میں مرد کے تابع ہوتی ہے، طبعا مرد کے ہر حکم کو پرکھنا چاہتی ہے اور اس سے اختلاف ظاہر کرتی ہے تا کہ حقیقت کو معلوم کرے۔پس مرد کو بھی چاہئے کہ عورت سے جو بات منوائے دلیل اور محبت سے منوائے۔اگر جبر اور زور سے منوائے گا تو عورت کا دل ٹوٹ جائے گا اور اس کا پیار کا تعلق مرد سے نہیں رہے گا۔( تفسیر کبیر جلد اصفحہ ۳۰۳) ”مرد کے حقوق کو جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کو گھریلو معاملات میں ویٹو پاور کا درجہ حاصل ہے۔جب میاں بیوی میں اختلاف کی صورت پیدا ہو جائے تو اس وقت مردکا فیصلہ ناطق ہو گا۔لیکن جب اختلاف بڑھ جائے اور مرد ویٹو پاور کا ناجائز استعمال کرے تو عورت کو عدالت کی رُو سے اپنے حقوق لینے کی اجازت ہے۔پس میں مردوں خصوصاً نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ عدل قائم کریں اور اسلام کے رستے میں دیوار حائل نہ کریں۔“ ( اوڑھنی والیوں کیلئے پھول حصہ اول صفحہ ۴۵۲-۴۵۳) پس دوسری اصولی بات ایک کامیاب راکھے کو یہ یا درکھنی ہے کہ بیوی کے اختلاف ظاہر کرنے کا مقصد جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے صرف اُس کی انا کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔ایسے موقع پر صبر اور حوصلے سے اُس کی بات کو سنیں اور پیار اور دلیل سے بات کو سمجھانے کی کوشش کریں۔یہ بھی یاد رکھیں کہ بے شک مرد قوام ہیں اور آخری فیصلے کا حق انہی کو حاصل ہے لیکن ہر کام صرف اپنی مرضی کے مطابق ہی کرنا دانشمندی نہیں بلکہ ضروری امور کے متعلق اپنی شریک حیات سے بھی مشورہ کرنا چاہئے اور اُس کی رائے پر ٹھنڈے دل سے غور کر کے اور باہم 43