راکھا — Page 176
۱۲۔خاوند کے والدین اور رشتہ دار آپ کے گھر آئیں تو خوش کا اظہار کریں اور اُن کی مناسب خدمت کریں۔۱۳۔اگر خاوند کی کوئی عادت ناپسند ہے تو اُس سے پیار اور حکمت سے بات کریں۔۱۴۔معمول کے اخراجات میں سے پس انداز کرنے کی کوشش کریں اور پھر کسی ضرورت کے وقت یہ رقم نکال کر خاوند کے سامنے پیش کر دیں۔اعتماد کے قیام کا یہ بہترین نسخہ ہے۔۱۵۔گھر میں بھی باحیا اور مکمل لباس پہنیں۔۱۶۔اسلامی پردہ کی پابندی میں اپنی بیٹیوں کیلئے نمونہ بنیں۔۱۷۔اچھی اور نیک خواتین سے روابط رکھیں۔۱۸۔نامحرم مردوں سے باوقار اور مضبوط لہجے میں مختصر بات کریں۔۱۹۔اگر آپ بہو ہیں تو ساس کو ماں کی طرح اور اگر ساس ہیں تو بہو کو بیٹی کی طرح سمجھیں۔غلطی ہو جائے تو صاف بتادیں اور خاوند سے معذرت کر لیں۔۲۰۔غیر معمولی کام کی وجہ سے خاوند تھکا ہوا ہو تو اُسے دبادیں۔بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی بنیادی دینی تعلیم ، اچھے کلمات اور ضروری آداب سکھائیں۔۲۳۔بیٹیوں کی شادی سے پہلے پہلے اُنہیں درست تلفظ کے ساتھ قرآنِ کریم پڑھنا ضرور سکھا دیں۔۲۴۔بیٹیوں کو چھوٹی عمر سے ہی امور خانہ داری میں ہاتھ بٹانا سکھائیں۔۲۵۔بیٹیوں کا جماعت کی بزرگ خواتین سے ذاتی تعلق قائم کرائیں۔۲۶۔بیٹوں اور بیٹیوں سے مساوی سلوک روارکھیں۔۲۷۔بیٹوں کو اپنی بہنوں سے محبت اور حسن سلوک سے پیش آنا سکھا ئیں۔176