راکھا — Page 163
ہوئے ہیں۔کیا مردوں کے ساتھ ہم ثواب میں برابر کی شریک ہوسکتی ہیں جبکہ مرد اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں؟ حضور اسماء کی یہ باتیں سن کر صحابہ کی طرف مڑے اور انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اس عورت سے زیادہ عمدگی کے ساتھ کوئی عورت اپنے مسئلہ کو پیش کرسکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا حضور ہمیں تو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی عمدگی کے ساتھ اور اتنے اچھے پیرا یہ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہے۔پھر آپ اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے خاتون ( محترم ) اچھی طرح سمجھ لو اور جن کی تم نمائندہ بن کر آئی ہو اُن کو جا کر بتا دو کہ خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اُسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو ا سکے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے۔(اسدالغابہ بحوالہ حدیقۃ الصالحین صفحه ۳۰۴-۴۰۴) ایک ماں کی نصیحت دراصل یہ ایسی نصائح ہیں جن سے ہر عورت کا آگاہ ہونا ضروری ہے اور پھر بطور ماں اُس کا فرض ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کے کانوں میں اللہ اور رسول کے یہ احکامات ڈالتی رہے۔یورپین عیسائی یا مشرک عورتوں کی دیکھا دیکھی کئی مسلمان عورتیں بھی اُن کے نقشِ قدم پر چلنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر اس کا وہی نتیجہ نکلتا ہے جو اُن کے حق میں نکل رہا ہے۔یادرکھنا چاہئے کہ جوطرز زندگی اپنانے کا خدا اور اُس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے اسی میں ہی خیر اور بھلائی ہے۔حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ عنھا نے اپنی بیٹی حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کو ان کی 163