راکھا — Page 162
اور صاحبِ حیثیت کے سوروپے کے برابر اجر حاصل کر لیتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجر کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔عورتیں بظاہر کم اور آسان کام کر کے بھی وہی اجر پا لیتی ہیں جو مر دوں کو ملتا ہے اور جنت میں مردوزن ایک ساتھ ہونگے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّلِحَتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا ( النساء ۱۲۵) ترجمہ : ” اور مردوں میں سے یا عورتوں میں سے جو نیک اعمال بجالائے اور وہ مومن ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہونگے اور وہ کھجور کی گٹھلی کے سوراخ کے برابر بھی ظلم نہیں کئے جائیں گے۔“ ایک حدیث بھی اس موضوع پر روشنی ڈالتی ہے جو ذیل میں پیش کی جاتی ہے: ایک دفعہ اسماء بنت یزید انصاری آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عورتوں کی نمائندہ بن کر آئیں اور عرض کیا حضور میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں عورتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو مر دوں اور عورتوں سب کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ہم عورتیں گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہیں اور مردوں کو یہ فضیلت اور موقعہ ہے کہ وہ نماز با جماعت، جمعہ اور دوسرے مواقع اجتماع میں شامل ہوتے ہیں، نماز جنازہ پڑھتے ہیں ، حج کے بعد حج کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جب آپ میں سے کوئی حج ، عمرہ یا جہاد کی غرض سے جاتا ہے تو ہم عورتیں آپ کی اولاد اور آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں اور سوت کات کر آپ کے کپڑے بنتی ہیں، آپ کے بچوں کی دیکھ بھال اور انکی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالے 162