راکھا — Page 99
لطف اور نرمی کا برتاؤ فرمان الہی وَ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عورتیں اپنی صنف کے اعتبار سے اس لائق ہیں کہ ان سے رحم اور لطف کا سلوک کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کا جوڑا بنایا ہی اس لئے تھا کہ وہ ایک دوسرے سے سکون اور چین پائیں اور اس مقصد کیلئے اُن میں ایک دوسرے کے لئے ایک خاص کشش اور جذبات محبت پیدا فرمائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ مِنْ الله أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ اَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةٌ۔إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ۔(الروم ۲۲) ترجمہ : ” اور اس کے نشانات میں سے (یہ بھی) ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس میں سے جوڑے بنائے تا کہ تم اُن کی طرف تسکین (حاصل کرنے) کے لئے جاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔یقینا اس میں ایسی قوم کیلئے جوغور وفکر کرتے ہیں بہت سے نشانات ہیں۔“ حضرت خلیفتہ المسیح اول فرماتے ہیں : لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا : یا درکھو بیبیاں اس لئے ہیں کہ ان سے آرام پاؤ۔بہت بد بخت ہیں وہ جو بی بی کو دُکھ سمجھیں۔مَوَدَّهُ : ان کے ذریعے دو مختلف خاندانوں میں باہمی محبت بڑھتی ہے۔رَحْمَةً : بی بی پر رحم کرو۔وہ تمہارے مقابل میں بہت کمزور ہے۔لطیف پیرائے میں ادب سکھاؤ۔“ لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا : دوسرے مقام پر فرمایا: لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ 99