راکھا — Page 100
مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً (الروم :۲۲) عورت ذات بوجہ اپنی کم علمی ، نا تجربہ کاری کے بہت ہی قابلِ رحم و قابل مہر بانی ہے۔( حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۳۵۳) آنحضرت ﷺ نے ایک تو ازواج مطہرات سے اپنے بے نظیر حسن سلوک کو اپنے متبعین کیلئے نمونہ قرار دیا اور دوسرے یہ کہ آپ کو عورتوں کے بارے میں حسن معاشرت کا اس قدر خیال رہتا تھا کہ نہ صرف ہمیشہ اپنے صحابہ کو اس امر کی تلقین کرتے رہتے بلکہ اس کی نگرانی بھی فرماتے اور عورتیں بے تکلفی سے اپنے خاوندوں کی شکایات آپ سے کر سکتی تھیں۔حجتہ الوداع کے موقعے پر بھی آپ انہیں نہیں بھولے اور آپ ﷺ نے خاص طور پر ان سے نیک سلوک کی تلقین فرمائی۔آپ نے فرمایا: عورتیں تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہیں۔اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتیں۔اس لئے تمہارا فرض ہے کہ ان کا خود خیال رکھو۔ان کی ضروریات و حاجات کو پورا کرو اور حسن معاشرت کا رویہ پیشِ نظر رکھو۔“ (سیرت ابن ہشام جلد۳) اسی طرح آپ ﷺ نے ایک اور موقعہ پر فرمایا: اَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلْقًا وَ خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لنسائهم (ترندی) ترجمہ: سب سے کامل الایمان وہ شخص ہے جوسب سے - زیادہ با اخلاق ہو اور تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ حسنِ معاشرت میں سب سے اچھا ہو۔حضرت خلیفہ اسیح اول فرماتے ہیں : وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ : جہاں تک ہو سکے ان سے بھلائی کرو۔تم ان سے 100