راکھا

by Other Authors

Page 93 of 183

راکھا — Page 93

آیت کے آخری حصہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تم قوام ہو اور اس کے با وجود تمہاری بیوی بہت زیادہ باغیانہ روح رکھتی ہے تو اس صورت میں یہ اجازت نہیں کہ اس کو فوری طور پر بدنی سزا دو بلکہ اسے نصیحت کرو۔اگر نصیحت سے نہ مانے تو از دواجی تعلقات سے کچھ عرصہ تک احتراز کرو۔( دراصل یہ سز ا عورت سے زیادہ مرد کو ہے ) اگر اس کے باوجود اس کی باغیانہ روش دور نہ ہو تو پھر تمہیں اس پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے مگر اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ایسی ضرب نہ لگے جو چہرہ پر ہو اور جس سے اس پر کوئی داغ لگ جائے۔اس آیت کریمہ کے حوالہ سے بہت سے لوگ اپنی بیویوں پر نا جائز تشد د کر تے ہیں کہ مرد کو بیوی کو مارنے کی اجازت ہے حالانکہ اگر مذکورہ بالا شرائط پوری کریں تو بھاری امکان ہے کہ کسی تشدد یا سختی کی ضرورت ہی نہ پڑے۔اگر تشدد جائز ہوتا تو حضرت رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بیویوں پر بدنی تشدد کی کوئی ایک ہی مثال نظر آ جاتی حالانکہ بعض ہو یہاں بعض دفعہ آپ کی ناراضگی کا موجب بھی بن جاتی الله تھیں۔“ ( ترجمۃ القرآن از حضرت خلیفہ امسیح الرابع صفحه ۱۳۵) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: پھر بعض دفعہ بہانہ جو مردوں کی طرف سے ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ یہ نافرمان ہے بات نہیں مانتی۔میرے ماں باپ کی نہ صرف عزت نہیں کرتی بلکہ اُن کی بے عزتی بھی کرتی ہے۔میرے بہن بھائیوں سے لڑائی کرتی ہے۔بچوں کو ہمارے خلاف بھڑکاتی ہے یا گھر سے باہر محلے میں اپنی سہیلیوں میں ہمارے گھر کی باتیں کر کے ہمیں بدنام کر دیا ہے۔تو اس بارہ میں بڑے واضح احکام 93