راکھا — Page 92
بھی اسے اپنے نکاح میں رکھنا نہیں چاہتا بلکہ اسے طلاق دینی پڑتی ہے۔مذکورہ آیت میں بھی در اصل عورت سے ہی احسان کے سلوک کا پہلو نمایاں ہے کہ آخری وقت تک اصلاح کی کوشش کرنے کا حکم ہے ورنہ بہت سے لوگ مارنا ہرگز پسند نہیں کرتے اور اگر وہ پہلے دوطریقوں کے ذریعے نہیں سمجھتی تو اُس سے علیحدہ ہو جاتے ہیں۔سب سے بڑا نمونہ تو خود آنحضرت ﷺ کا ہمارے سامنے ہے جن پر یہ آیت نازل ہوئی۔آپ نے پوری زندگی کبھی ایک دفعہ بھی اپنی کسی بیوی پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔پس اس آیت سے بات بات پر عورتوں کو بدنی سزا دینے کا جواز نکالنا سراسر ظلم ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: پھر عورت کا یہ حق مقرر کیا ہے کہ خاوند عورت کو بلا کسی کھلی بدی کے سزا نہیں دے سکتا۔اگر سزا دینی ہو تو اُس کیلئے پہلے ضروری ہے کہ محلہ کے چار واقف مردوں کو گواہ بنا کر اُن سے شہادت لے کہ عورت واقعہ میں خلاف اخلاق افعال کی مرتکب ہوئی ہے۔اس صورت میں بے شک سزا دے سکتا ہے۔مگر وہ سزا تدریجی ہوگی پہلے وعظ۔اگر وہ اس سے متاثر نہ ہو تو کچھ عرصہ کیلئے اُس سے علیحد ہ دوسرے کمرے میں سونا۔اگر اس کا اثر بھی عورت پر نہ ہو تو گواہوں کی گواہی کے بعد بدنی سزا کا دینا جس کیلئے شرط ہے کہ ہڈی پر چوٹ نہ لگے اور نہ ہی اس مار کا نشان پڑے اور یہ بھی شرط ہے کہ یہ سزا صرف مخش کی وجہ سے دی جاسکتی ہے نہ کہ گھر کے کام وغیرہ کے نقص کی وجہ سے۔“ ( احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔بحوالہ انوار العلوم جلد ۸ صفحه ۲۷۲) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں: 92