راکھا

by Other Authors

Page 85 of 183

راکھا — Page 85

اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن گھر میں چونکہ انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا اس لئے وہاں اُن کے اخلاق کا کچھ اور ہی رنگ ہوتا ہے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ نے انسان کے گھر سے باہر سلوک اور برتاؤ کی بجائے اہلِ خانہ کے ساتھ نیک سلوک کو نیکی کا معیار قرار دیا ہے۔فرمایا: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لَا هُلِی تم میں سے بہتر وہ ہے جس کا اپنے اہل وعیال سے سلوک اچھا ہے اور میں تم میں سے اپنے اہل سے اچھا سلوک کرنے کے اعتبار سے بہتر ہوں۔(مشکوۃ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس سے یہ مت سمجھو کہ پھر عورتیں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کو بہت ذلیل اور حقیر قرار دیا جائے۔نہیں نہیں ، ہمارے ہادی کامل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خیر کم خیر کم لاھلہ تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس کا اپنے اہل کے ساتھ عمدہ سلوک ہو۔بیوی کے ساتھ جس کا عمدہ چال چلن اور معاشرت اچھی نہیں وہ نیک کہاں۔دوسروں کیساتھ نیکی اور بھلائی تب کر سکتا ہے جب وہ اپنی بیوی کے ساتھ عمدہ سلوک کرتا ہو اور عمدہ معاشرت رکھتا ہو۔نہ یہ کہ ہر ادنی بات پر زدوکوب کرے۔ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک غصہ سے بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اُس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مرگئی ہے اس لئے اُن کے واسطے اللہ تعالے نے یہ فرمایا ہے کہ وَ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔ہاں اگر وہ بے جا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز 85