راکھا

by Other Authors

Page 86 of 183

راکھا — Page 86

ہے۔انسان کو چاہئے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین کے خلاف ہو کبھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ وو اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱۴۷۔۱۴۸) چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے خَیرُ كُمُ خَيْرُ كُمُ لاَهْلِهِ تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کیلئے اچھا ہے۔( ملفوظات جلد ۵ صفحه ۴۱۸) نیک نمونه آنحضرت ﷺ نے مندرجہ بالا حدیث میں خود اپنے نمونے کو پیش فرمایا ہے جیسا کہ فرمايا: ” وَ أَنَا خَيْرُ كُمُ لاَھلِی اور میں تم میں سے اپنے اہل سے سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہوں۔یعنی آپ نے صرف قال سے نہیں بلکہ حال سے عورتوں کے ساتھ نیک سلوک فرما کر دکھایا۔انسان طبعاً نمونے کا محتاج ہوتا ہے اور عورتوں میں تو خاص طور پر قوت متاثرہ زیادہ ہوتی ہے اور وہ جلد اثر قبول کر لیتی ہیں۔اس لئے لازم ہے کہ گھر کا نگران اپنے بیوی بچوں کیلئے نیکی اور اخلاق حسنہ کا نمونہ بنے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالحہ ہوسکتی ہے۔ہاں اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالحہ بن سکتی ہے۔قول سے عورت کو نصیحت نہ دینی چاہئے بلکہ 86