راکھا

by Other Authors

Page 65 of 183

راکھا — Page 65

معاف کرائیں (یہ بھی ادنی درجہ ہے اصل بات یہی ہے کہ مال عورت کے پاس کم از کم ایک سال رہنا چاہئے اور پھر اُس عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرے تو درست ہے ) اُن کی بیویوں کا مہر پانچ پانچ سو روپیہ تھا۔حکیم صاحب نے کہیں سے قرض لے کر پانچ پانچ سورو پیدان کو دے دیا اور کہنے لگے تمہیں یاد ہے تم نے اپنامبر مجھے معاف کیا ہوا ہے۔سو اب مجھے یہ واپس دیدو۔اس پر انہوں نے کہا اُس وقت ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ نے دے دینا ہے اس وجہ سے کہہ دیا تھا کہ معاف کیا۔اب ہم نہیں دیں گی۔حکیم صاحب نے آکر یہ واقعہ حضرت صاحب کو سنایا کہ میں نے اس خیال سے کہ روپیہ مجھے واپس مل جائے گا ایک ہزار روپیہ قرض لے کر مہر دیا تھا مگر روپیہ لے کر معاف کرنے سے انہوں نے انکار کر دیا ہے۔حضرت صاحب یہ سن کر بہت ہنسے اور فرمانے لگے درست بات یہی ہے پہلے عورت کو مہر ادا کیا جائے اور کچھ عرصہ کے بعد اگر وہ معاف کرنا چاہے تو کر دے ورنہ دیئے بغیر معاف کرانے کی صورت میں تو ” مفت کرم داشتن“ والی بات ہوتی ہے۔عورت سمجھتی ہے نہ انہوں نے مہر دیا اور نہ دیں گے۔چلو یہ کہتے جو ہیں معاف کر دو مفت کا احسان ہی ہے نا۔تو عورت کو جب مہر مل جائے پھر اگر وہ خوشی سے دے تو درست ہے ورنہ دس لاکھ روپیہ بھی اگر اس کا مہر ہو گا اُس کو ملا نہیں تو وہ دیدے گی کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میں نے جیب سے نکال کے تو کچھ دینا نہیں صرف زبانی جمع خرچ ہے اس میں کیا حرج ہے۔پس عورتوں سے معاف کرانے سے پہلے اُن کو دیا جانا ضروری ہے۔“ ( اوڑھنی والیوں کیلئے پھول صفحہ ۱۵۲-۱۵۳) 65