راکھا

by Other Authors

Page 66 of 183

راکھا — Page 66

اگر خدانخواستہ میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت بنتی ہے تو بھی خاوند کا فرض ہے کہ اگر اس نے مہر ادا نہیں کیا ہوا تو قضاء کے فیصلے کے مطابق فوراً ادا کر دے بلکہ کچھ زیادہ ہی دے دے۔بعض لوگ محض تنگ کرنے کی نیت سے مہر بھی چھوٹی چھوٹی اقساط میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔یہ نہایت ہی نا پسندیدہ طرز عمل ہے جس کی کسی بھی احمدی مسلمان سے ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی۔خاوند کو چاہئے کہ اس موقع پر بھی احسان کا سلوک کرے۔مثلاً خلع کی صورت میں اگر چہ ادا شدہ مہر عورت نے واپس کرنا ہوتا ہے لیکن احسان یہ ہے کہ وہ بیوی سے واپس نہ لے۔اسی طرح اور بھی جو کچھ اسے دے چکا ہے اس کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَّخَافَا إِلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ، فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ۚ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِه ، ( البقره آیت ۲۳۰) لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ ط مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوالَهُنَّ فَرِيضَةً وَّ مَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ ج قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُه : مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ۔وَ إِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوُ هُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمُ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمُ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ اَوْ يَعْفُوا الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ط وَاَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى ، وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ، إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقره آیات ۲۳۷ - ۲۳۸) وَ إِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجِ مَّكَانَ زَوْجِ وَّاتَيْتُمُ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ط لا اتَأخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَّ إِثْمًا مُّبِينًا (النساء آیت (۲) 66