راکھا — Page 64
یہ عورت کا حق ہے اُسے دینا چاہئے۔اوّل تو نکاح کے وقت ہی ادا کرے ورنہ بعد ازاں ادا کر دینا چاہئے۔پنجاب اور ہندوستان میں یہ شرافت ہے کہ موت کے وقت یا اس سے پیشتر اپنا مہر خاوند کو بخش دیتی ہیں۔یہ صرف رواج ہے جو مروت پر دلالت کرتا ہے۔‘‘ ( ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۳۹۱) حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں : یوں تو عورت اپنے خاوند کو بھی مہر کا روپیہ دے سکتی ہے لیکن یہ نہیں کہ خاوند مہر ادا کئے بغیر ہی لینے کا اقرار کرالے۔اس طرح عورت سمجھتی ہے مہر پہلے کونسا مجھے ملا ہوا ہے صرف زبانی بات ہے اس کا معاف نہ کرنا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا اس لئے کہہ دیتی ہے میں نے معاف کیا۔ورنہ اگر اُسے دے دیا جائے اور وہ اسکے مصارف جانتی ہو تو پھر معاف کرالینا اتنا آسان نہ ہو۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر ائمہ کبار اور بزرگوں کا فیصلہ تو یہ ہے کہ کم از کم سال کے بعد عورت اپنا مہر اپنے خاوند کو دے سکتی ہے۔یعنی مہر وصول کرنے کے بعد ایک سال تک وہ اپنے پاس رکھے اور پھر اگر چاہے تو خاوند کو دیدے۔حکیم فضل دین صاحب جو ہمارے سلسلہ کے السابقون الاولون میں سے ہوئے ہیں اُنکی دو بیویاں تھیں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما یا مہر شرعی حکم ہے اور ضرور عورتوں کو دینا چاہئے۔اس پر حکیم صاحب نے کہا میری بیویوں نے مجھے معاف کر دیا ہوا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کیا آپ نے ان کے ہاتھ پر رکھ کر معاف کرایا تھا؟ کہنے لگے نہیں ، حضور یونہی کہا تھا اور اُنہوں نے معاف کر دیا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ پہلے آپ اُن کی جھولی میں ڈالیں پھر اُن سے 64