راکھا — Page 60
بھی بہت سی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔اُن کا خاندان بھی مشکلات میں پڑ جاتا ہے۔اگر چہ شروع شروع میں بعض والدین اس بات پر زیادہ توجہ نہیں دیتے مگر جب آہستہ آہستہ اُن کی اولا واحمدیت سے دور ہونی شروع ہو جاتی ہے اور وہ خود بھی شرمندگی کے احساس سے جماعت میں آنا جانا کم کر دیتے ہیں اور پھر بہت دور چلے جاتے ہیں تب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔لہذا تمام احمدی بچیوں کو ہمیشہ اسلامی تعلیم کو مد نظر رکھنا چاہئے۔تمام والدین کو رشتے طے کرتے وقت اسلامی تعلیم کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ خاندان ، دولت ، عزت و مرتبہ کسی بھی چیز کو ترجیح نہ دو۔صرف اور صرف تقوی اور نیکی کو دیکھو۔دینی حالت کو دیکھو۔اگر نیکی اور تقویٰ دیکھ کر رشتے طے کئے جائیں تو اللہ تعالیٰ برکت دے گا اور آئندہ نسلوں میں بھی نیکی قائم رہے گی۔“ (الفضل انٹرنیشنل ۱۸ تا ۲۴ اگست ۲۰۰۶) شریک حیات کے انتخاب کے سلسلے میں ایک نہایت ہی اہم بات یہ ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے نیک ساتھیوں کیلئے دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔پھر رشتوں کی تجویز کے وقت ظاہری اور عمومی باتوں میں تسلی کر لینے کے بعد ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی جھکیں کیونکہ بعض اوقات انسان اپنی سمجھ کے مطابق ایک چیز کو اپنے لئے بہتر سمجھ رہا ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے کہ یہ اُس کیلئے بہتر نہیں۔اسی لئے اسلام میں استخارہ کا نہایت ہی بابرکت طریق مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ علام الغیوب خدا سے رہنمائی لیں۔پھر دیکھا گیا ہے کہ والدین تو استخارہ کرتے ہیں لیکن وہ بچے اور بچیاں جن کی شادی ہوئی ہوتی ہے انہیں اس طرف متوجہ نہیں کیا جاتا حالانکہ بہت ضروری ہے کہ وہ بھی ایک ساتھی کیلئے عام طور پر بھی خدا کے حضور دعائیں کرتے رہیں اور رشتہ کی تجویز کے بعد استخارہ بھی کریں۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع فرماتے ہیں: 60