راکھا — Page 59
نظر غیر احمدی لڑکی سے شادی کی اجازت تھی لیکن بعد میں ان شادیوں کے نقصانات کی وجہ سے احمدیوں کیلئے یہی ہدایت ہے کہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں اُن کے رشتے احمد یوں میں ہی ہوں۔اس بارے میں حضرت خلیفہ ایسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” یہ جماعت احمدیہ میں بہر حال دیکھا جائے گا کہ لڑکی جہاں رشتہ کر رہی ہے یا رشتے کی خواہش رکھتی ہے وہ لڑکا بہر حال احمدی ہو۔کیونکہ ان تمام باتوں کا مقصد پاک معاشرے کا قیام ہے۔نیکیوں کو قائم کرنا ہے اور نیک اولا د کا حصول ہے۔اگر احمدی لڑکے احمدی لڑکیوں کو چھوڑ کر دوسروں سے شادیاں کریں گے تو معاشرے میں، خاندان میں فساد پیدا ہونے کا خطرہ ہوگا۔نئی نسل کے دین سے ہٹنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔اس لئے دین کا کفو د یکھنا بھی اسی طرح ضروری ہے جس طرح دنیا کا۔(روز نامه الفضل ربو ۱۲۰ اپریل ۲۰۰۵) بعض دفعہ احمدی لڑکے غیر احمدی لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ اہلِ کتاب سے شادی جائز رکھی گئی ہے۔مگر وہ قران کریم کی ان آیات کو بھول جاتے ہیں جن میں اہلِ کتاب کو مشرکوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے۔لہذا جب وہ غیر مسلموں سے شادی کر لیتے ہیں تو پھر چند سالوں بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ غلطی ہوئی ہے۔اس کے مضر اثرات اولا د اور خود اپنے پر دیکھتے ہیں تو پھر اپنی روشن خیالی پر نادم ہوتے ہیں جو دراصل تاریک خیالی ہے۔لیکن اس وقت تک بہت نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔اسی طرح بعض لڑکیاں جو اپنی آزادانہ اور بے حجابانہ روش کے نتیجہ میں غیر احمدی اور غیر مسلم لڑکوں سے شادی کر لیتی ہیں اور وہ لڑکا احمدیت بھی قبول کر لیتا ہے تو وہ 59