راکھا

by Other Authors

Page 61 of 183

راکھا — Page 61

ہمیں ہر کام کا آغاز دعا سے کرنا چاہئے۔اور رشتہ ناطہ کے معاملہ میں تو خاص طور پر دعا اور استخارہ سے کام لینا چاہئے۔۔۔نیک دلی سے پُر سوز دعائیں کریں اور دل کو تسکی اور اطمینان ہو جائے تو خدا تعالیٰ پر توکل کریں۔اسلام نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ شادی کیلئے انسان دعا کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے راہنمائی حاصل کرے۔جیسا کہ استخارہ کرنے کا طریق رائج ہے۔رشتہ خواہ بیٹی کا پیش نظر ہو یا بیٹے کا یا کسی اور عزیز کا ہر صورت میں ماں باپ کی یہ پہلی اور بنیادی ذمہ داری ہے کہ رشتہ کے مسئلے کا انتہائی عاجزانہ دعا کے ساتھ آغاز کریں۔دعاؤں کو رشتہ میں بہت اہمیت ہے اور دعاؤں کا اثر اولاد پر بہت دور تک پڑتا ہے۔“ ( الفضل ۲۰ اگست ۲۰۰۲) پس سب سے پہلی بات جو ایک مرد کو پیش نظر رکھنی ہوتی ہے اور جس سے اُس کی عائلی زندگی کا آغاز ہونا ہوتا ہے وہ ہے جیون ساتھی کا درست انتخاب۔یہ وہ بنیاد ہے جس پر عائلی زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔لہذا ضروری ہے کہ وہ اس اہم ترین پہلو پر خصوصی توجہ دے اور اپنی شریک حیات کا انتخاب اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرے۔چونکہ شریک حیات کے انتخاب کے معاملے میں والدین پوری طرح ملوث ہوتے ہیں اس لئے انہیں بھی چاہئے کہ اپنی ترجیحات کو اسلامی تعلیم کے مطابق رکھیں۔اپنے بچوں کے جیون ساتھیوں کے بارے میں اُن کی رضا و رغبت اور کفو کے مطابق فیصلے کریں۔اگر تو انتخاب ہم کفو ہے تو بہن بھائیوں یا دیگر رشتہ داروں کی خوشنودی اور فائدے کیلئے اُن کے بچوں کو اولیت دینا منع نہیں لیکن بچوں کی مرضی کے خلاف اُن پر بے جوڑ انتخاب زبر دستی مسلط کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور ایسے تعلق اگر بوجوہ نہ بھی ٹوٹیں تو حقیقی خوشی کا باعث نہیں بن سکتے۔61