راکھا — Page 46
سکتی ہے اور تم اس رشتے سے زیادہ بھلائی اور خیر پاسکتے ہو کیونکہ تمہیں غیب کا علم نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ غیب کا علم رکھتا ہے اور سب قدرتوں کا مالک ہے۔وہ تمہارے لئے اس میں بھلائی اور خیر رکھ دے گا۔“ (خطبہ جمعہ فرموده ۱۰ نومبر آنگنے ۲۰۰۶ بحوالہ الفضل انٹر نیشنل اتاے دسمبر ۲۰۰۶) عورت صنف نازک کہلاتی ہے۔جسمانی لحاظ سے مرد کی نسبت کمزور اور نازک اندام ہوتی ہے لیکن یہ ہرگز کوئی نقص نہیں ہے۔ہاں اگر عورت نازک نہ ہوتی اور اُس کا جسم مردوں کی طرح ہوتا تو بلا شبہ یہ ایک نقص ہوتا۔ایسی عورت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس میں تو نسوانیت ہی نہیں۔دراصل اس میں بھی ایک عظیم حکمت پنہاں ہے۔اس کی اسی نزاکت میں ہی حسن ، کشش اور جذب کا راز پایا جاتا ہے۔حدیث میں عورت کو توار بر یعنی آبگینے بھی کہا گیا ہے اور اس سے لطف ونرمی کے سلوک کی تلقین پائی جاتی ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سفر میں آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات بھی آپ کے ساتھ تھیں۔ایک حبشی غلام حذی پڑھنے لگے جس سے اونٹوں نے تیز چلنا شروع کر دیا اور خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں کوئی اونٹ سے گر ہی نہ جائے۔آپ ﷺ نے فرمایا: رُوَيْدَكَ سَوْقًا بِالْقَوَارِيرِ یعنی دیکھنا یہ شیشے اور آبگینے ہیں کہیں ٹوٹ ہی نہ جائیں۔(مسلم ) ایک دفعہ آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہ آپ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھیں۔اونٹ کا پاؤں پھسلا اور آپ دونوں نیچے گر پڑے۔حضرت طلحہ جو قریب ہی تھے لپک کر آپ ﷺ کی طرف بڑھے لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: عَلَيْكَ بِالْمَرئَةِ الْمَرْأَةُ الْمَرَاةُ یعنی پہلے عورت کا خیال کرو۔بعض امور ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں ثابت کرنے کیلئے کسی بڑی دلیل کی ضرورت نہیں 46