راکھا

by Other Authors

Page 47 of 183

راکھا — Page 47

ہوتی ، مشاہدہ اور عام دستور دنیا ہی اُن پر کافی دلیل ہوتا ہے۔یہ بھی ایسے ہی امور میں سے ایک ہے۔دُنیا بھر میں قدرتی آفات یا حادثات کے مواقع پر سب سے پہلے بچوں اور عورتوں کو بچانے کی صلى الله کوشش کی جاتی ہے۔آجکل جو Ladies first کہا جاتا ہے یہ وہی بات ہے آنحضرت میر نے چودہ سوسال پہلے بیان فرما دی تھی۔ایسی کمزور اور نازک صنف سے جسے آبگینہ کہا گیا ہے بڑی احتیاط سے برتاؤ کی ضرورت ہے۔ایک طاقتور اور مضبوط مرد کا اس سے کیا مقابلہ۔اس لئے گھر کے راکھے کو یہ اصولی بات بھی ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہئے اور جب کبھی کوئی ایسی صورت سامنے آ جائے تو مناسب اور باوقار طریق سے مقابلے سے حتی الوسع گریز کا پہلو اختیار کرنا ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ” میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جو عورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۴۴) حضرت خلیفہ مسیح اول فر ماتے ہیں : چونکہ عورتیں بہت نازک ہوتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان سے ہمیشہ رحم و ترس سے کام لیا جائے اور ان سے خوش خلقی اور علیمی برتی جائے۔“ ( خطبات نور جلد ۲ صفحه ۲۱۷) پس گھر کے راکھے کو ایک یہ اصول بھی مد نظر رکھنا ہے کہ اُس کی شریک سفر جسمانی لحاظ سے کمزور اور نازک اندام ہے گویا کہ اُس کی ہتھیلی پر ایک آبگینہ دھرا ہے جسے ساتھ لئے اُس نے سفر زندگی جاری رکھنا ہے۔47