راکھا

by Other Authors

Page 45 of 183

راکھا — Page 45

رکھو (مسلم) حضرت خلیفۃ امسیح الاوّل فرماتے ہیں: د عورت مرد کے تعلق کی آپس میں ایسی خطرناک ذمہ داری ہوتی ہے کہ بعض اوقات معمولی معمولی باتوں پر حُسن و جمال کا خیال بھی نہیں رہتا اور عورتیں کسی نہ کسی نہج میں ناپسند ہو جاتی ہیں اور ان کے کسی فعل سے کراہت پیدا ہوتے ہوئے کچھ اور کا اور ہی بن جاتا ہے۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا: وَعَاشِرُوهُنَّ بالْمَعْرُوفِ ، فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَّ يَجْعَلَ اللَّهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔پس عزیز و اتم دیکھو۔اگر تم کو اپنی بیوی کی کوئی بات نا پسند ہو تو تم اس کے ساتھ پھر بھی عمدہ سلوک ہی کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم اس میں عمدگی اور خوبی ڈال دیں گے۔ہو سکتا ہے کہ ایک بات حقیقت میں عمدہ ہو اور تم کو بُری معلوم ہوتی ہے۔“ ( حقائق الفرقان جلد۲ صفحہ ۱۳) حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئاً وَيَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔(النساء۲۰) کہ اُن سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اگر تم انہیں نا پسند کرو تو عین ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرو اور اللہ اُس میں بہت بھلائی رکھ دے۔پس جب شادی ہوگئی تو اب شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں۔ایک دوسرے کو سمجھیں۔اللہ کا تقویٰ اختیار کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اللہ کی بات مانتے ہوئے ایک دوسرے سے حسنِ سلوک کرو گے تو بظاہر نا پسندیدگی، پسند میں بدل 45