راکھا — Page 174
۔کھانا پسند نہ ہو یا کوئی کمی بیشی ہوگئی ہو تو اُس وقت کچھ نہ کہیں اور نہ ہی ناپسندیدگی کا اظہار کریں۔بس کھا لیں یا اگر دل نہیں چاہتا تو ہاتھ کھینچ لیں اور بعد میں مناسب رنگ میں اپنی پسند یا کمی بیشی کا ذکر کر دیں کہ اکثر تو ٹھیک ہی پکتا ہے لیکن آج مجھے ایسا محسوس ہوا ہے۔۴۔بیوی کی خامیوں کے اظہار سے اجتناب کریں، خاص طور پر دوسروں کے سامنے تو ہرگز ذکر نہ کریں۔مناسب اور تعمیری رنگ میں توجہ دلائیں۔۵۔۔باورچی خانے کے امور میں خواہ مخواہ دخل دینے سے اجتناب کریں۔بیوی کو زبردستی اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش نہ کریں بلکہ دلیل اور اپنے عملی نیک نمو نے سے سمجھا ئیں۔و۔۔معمولی باتوں پر چڑنے ، ناک منہ چڑہانے ، اور ”ٹو کاٹا کی“ سے پر ہیز کریں۔خشک مزاجی سے مکمل اجتناب کریں۔بیوی پر گر جنے برسنے اور بد زبانی سے کلینتا اجتناب کریں۔۔بیوی کے اپنے والدین اور رحمی رشتہ داروں سے ملنے جلنے پر ہرگز پابندی نہ لگا ئیں۔۔ماں باپ کی خدمت اور نیک سلوک سے کبھی غفلت نہ کریں۔۱۲۔بیٹیوں اور بیٹوں کی تعلیم و تربیت میں کسی قسم کا فرق نہ کریں لیکن بیٹیوں کی اضافی حفاظت ضرور مد نظر رکھیں۔۱۳۔بچوں کی تعلیم و تربیت سے یہ سمجھ کر غفلت نہ برتیں کہ یہ صرف ماں کی ذمہ داری ہے۔۱۴۔بچوں کی تعلیم و تربیت اور صحت پر خرچ کرنے میں ہرگز بخل نہ کریں۔۱۵۔بیوی پر قطعی طور پر ہاتھ نہ اٹھا ئیں کہ یہ شرفاء کا طریق نہیں۔174