راکھا — Page 158
موجود ہو تو ایسے شخص سے ہرگز نکاح کرنا نہیں چاہتے۔سو یا د رکھنا چاہئے کہ ایسے لوگ بھی صرف نام کے مسلمان ہیں اور ایک طور سے وہ ان عورتوں کے مددگار ہیں جو اپنے خاوندوں کے دوسرے نکاح سے ناراض ہوتی ہیں۔اُن کو خدا سے ڈرنا چاہئے۔( ملفوظات جلده اصفحه ۴۵ - ۴۶) ” اور اسے عور تو۔فکر نہ کرو جو تمہیں کتاب ملی ہے وہ انجیل کی طرح انسانی تصرف کی محتاج نہیں اور اس کتاب میں جیسے مردوں کے حقوق محفوظ ہیں عورتوں کے حقوق بھی محفوظ ہیں۔اگر عورت مرد کے تعد دازدواج پر ناراض ہے تو وہ بذریعہ حاکم ضلع کراسکتی ہے۔خدا کا یہ فرض تھا کہ مختلف صورتیں جو مسلمانوں میں پیش آنے والی تھیں اپنی شریعت میں اُن کا ذکر کر دیتا تا شریعت ناقص نہ رہتی۔سو تم اے عورتو۔اپنے خاوندوں کے ان ارادوں کے وقت کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں خدا تعالیٰ کی شکایت مت کرو بلکہ تم دعا کرو کہ خدا تمہیں مصیبت اور ابتلا سے محفوظ رکھے۔بے شک وہ مر دسخت ظالم اور قابل مواخذہ ہے جو دو جو روئیں کر کے انصاف نہیں کرتا مگر تم خدا کی نافرمانی کر کے مور د قہر الہی مت بنو۔( کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۸۱) یتیم خاوند بعض مرد ایسے بھی ہوتے ہیں ( اور یورپ میں ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے ) جو اپنے اصل مقام سے ہٹ چکے ہوتے ہیں۔کسی فطری کمزوری ، شرافت یا مخصوص حالات کی وجہ سے وہ قوام نہیں رہتے۔گھر کا پورے کا پورا نظام عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔نہ تو اُن 158