راکھا

by Other Authors

Page 159 of 183

راکھا — Page 159

کی کوئی رائے ہوتی ہے اور نہ ہی فیصلے کا اختیار۔اُنہیں اُن کی بیویاں اپنی مرضی کے مطابق چلا رہی ہوتی ہیں۔ایسے لوگ اگر کوئی نوکری وغیرہ کرتے ہوں تو پوری کی پوری تنخواہ بیویاں وصول کر لیتی ہے اور اپنے ذاتی اخراجات کیلئے بھی وہ بیویوں سے مانگ کر رقم لیتے ہیں۔اصل میں بیویوں نے انہیں کام کاج کرنے اور بازار سے سودا سلف اٹھا کر لانے کیلئے رکھا ہوتا ہے اور کرده و نا کردہ غلطیوں پر ڈانٹ بھی پلاتی رہتی ہیں۔اصل میں ایسے مرد اپنی عورتوں کے گھروں میں یتیمی کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔اس صورتِ حال کے نتیجے میں بعض مردوں میں تو مردانگی کی حس بالکل ہی مر جاتی ہے اور اُن کیلئے پھر اُس گھر میں رہنے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی اور قطعاً کوئی دقت محسوس نہیں کرتے لیکن جن میں اس کی کچھ رمق باقی ہوتی ہے ان کیلئے گھر ایک عذاب بن جاتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ وقت باہر ہی کہیں گزار لیں۔ایسے بیچارے مردوں کی عورتوں کو خدا کا خوف کرنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ اُن کے گھروں میں حقیقی خوشی کبھی نہیں آسکتی اور نہ بچوں کی تربیت اُس رنگ میں ہو سکتی ہے جیسی کہ ہونی چاہئے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ قوام اللہ تعالیٰ نے مرد کو بنایا ہے۔وہی یہ کام کرے گا تو نتیجہ درست نکلے گا ورنہ کسی نہ کسی صورت میں ضرور فساد بر پار ہے گا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایسے مردوں کی عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بعض مرد کہتے ہیں کہ ہمارا بھی تو ذکر کرو۔ہم پر بھی تو ظلم ہوتا ہے اور ایسے بیچارے لوگ ہیں جو واقعہ گھر سے باہر زندگی زیادہ سے زیادہ کاٹتے ہیں کیونکہ گھر جانا ان کیلئے مصیبت بن جاتا ہے۔اسی ضمن میں ایک لطیفہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایک شخص اپنے دوست کو بتا رہا تھا کہ میرا کتنا کام ہے۔اس نے کہا دیکھو تنے گھنٹے میں دفتر میں صرف کرتا ہوں، اتنے گھنٹے فلاں دوکان پر ملازمت کرتا 159