راکھا — Page 157
شادیوں کی اجازت دی ہے۔دیکھا گیا ہے کہ بعض عورتیں اور اُن کے رشتہ دار جائز ضرورت کے تحت بھی مرد کی دوسری شادی کی سخت مخالفت کرتے ہیں اور بسا اوقات یہ مخالفت ناچاقی کی صورت اختیار کر کے طلاق یا خلع تک نوبت جا پہنچتی ہے۔ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہی الفاظ میں نصائح درج کر دی جائیں۔آپ فرماتے ہیں: عورتوں میں یہ بھی ایک بد عادت ہوتی ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کیلئے دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے اور شور مچاتے ہیں اور بندہ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ایسی عورتیں اور ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں۔کیونکہ اللہ جل شانہ نے اپنی حکمت کا ملہ سے جس میں صد با مصالح ہیں مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔پھر جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں بُرا کہا جاوے۔ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے حکموں کا مقابلہ کرتے ہیں نہایت مردود اور شیطان کے بہن بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں۔اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اُسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کیلئے دوسرا نکاح ضرور کرے۔بعض جاہل مسلمان اپنے ناطہ رشتہ کے وقت یہ دیکھ لیتے ہیں کہ جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح کرنا منظور ہے اس کی پہلی بیوی بھی ہے یا نہیں۔پس اگر پہلی بیوی 157