راکھا — Page 148
ایک حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ عورت وہ اچھی ہے کہ جس کی طرف دیکھنے سے دل خوش ہو۔خاوند جب باہر کے کام کاج سے تھکا ماندہ گھر میں آئے تو اگر بیوی صاف ستھرے لباس میں اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اسے خوش آمدید کہتی ہے تو آدھی تکان تو اُسی پل دور ہو جاتی ہے اور انسان ایک سکون محسوس کرتا ہے۔لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا کا ایک یہ بھی پہلو ہے۔حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو اپنے خاوند کی خاطر گھر میں بن سنور کر اور صاف ستھرے لباس میں رہنا چاہئے۔اس سے خاوند کے دل میں بیوی کیلئے پیار اور چاہت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔پس پہلا فرض ایک بیوی کا یہ ہے کہ اپنے گھر کا ماحول ہر پہلو سے اس طرح بنا کر رکھے کہ جس کے نتیجے میں انسان گھر کے اندر آرام ، سکون اور دلی تسکین محسوس کرے اور اُس کا خاوند جہاں کہیں بھی ہو خواہش اور کوشش کرے کہ کب وہ باہر کی مصروفیات سے فارغ ہو اور کب وہ گھر پہنچے جہاں ایک پیار کرنے والی ہستی اُس کی منتظر ہے۔اللہ تعالیٰ کا مظہر خاوند اپنی بیوی کیلئے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر کسی کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو عورت کو حکم ہوتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ كُنتُ امِرًا اَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ ِلاَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا (ترندی) ترجمہ : ” حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر میں کسی کو حکم دے سکتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو عورت کو کہتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔“ 148